خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 992
خطبات ناصر جلد دوم ۹۹۲ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۶۹ء عبودیت تامہ کو حاصل کر چکا ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ میری سچی اور حقیقی عبادت کرو تو ساتھ ہی اس کے لئے تمہیں دور ہیں بھی بتا دیتا ہوں کیونکہ اپنی طرف سے تم ان راہوں کو بھی حاصل نہیں کر سکتے ، اپنی کوشش سے تم ان وسائل کو بھی نہیں پاسکتے جو کہ عبودیت تامہ پر منتج ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کو ظاہر کرتے ہیں یا جو اللہ تعالیٰ کی خوبصورتی اور اس کے نور کے جلوے دل اور دماغ پر بٹھاتے ہیں جس کے نتیجہ میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا ایک کامل قرب حاصل ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنے زور اور اپنی طاقت اور اپنی عقل اور سمجھ اور اپنے مجاہدہ سے ان وسائل کو حاصل نہیں کر سکتے اس لئے ہم تمہیں دو باتیں بتاتے ہیں کہ اگر تم ان کو اختیار کرو گے تو عبد تام یعنی ایک کامل اور حقیقی عبد اور کچے بندے بن جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہیں عبودیت تامہ حاصل ہو جائے گی۔ایک یہ کہ اپنے نفسوں پر فناوار دکر و اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی کامل اتباع اور اطاعت کرو۔پہلے انسان نے اپنے اوپر فناوارد کی ، ہر چیز خالی ہوگئی، انسان کی تختی خالی اور صاف ہوگئی تو پھر اطاعت ہوگی اور اطاعت میں بجوں جوں وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا چلا جائے گا جس کے نتیجہ میں پھر وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن جائے گا۔پس حقیقی عبد بننے کے لئے ان دوراہوں کو ایک ہی وقت میں اختیار کرنا ضروری ہے۔ایک یہ کہ کامل طور پر اللہ تعالیٰ میں فنا ہو جانا اور دوسرے یہ کہ کامل اطاعت کا نمونہ اپنی زندگیوں میں دکھانا ورنہ محض زبانی وعدوں سے انسان اللہ تعالیٰ کی اس رضا کو حاصل نہیں کر سکتا جسے اُس نے اس مذکورہ آیہ کریمہ میں فلاح کے نام سے پکارا ہے یعنی ایسی کامیابی جس سے بڑھ کر کوئی کامیابی ممکن نہیں اور جو انسان کے تصور میں بھی نہیں آسکتی۔اللہ تعالیٰ نے یہاں اس مذکورہ آیت میں فرمایا ہے کہ جب تم فانی فی اللہ بن جاؤ گے، میرے اندر غائب ہو جاؤ گے، تمہارا اپنا وجود نہیں رہے گا اور جب تمہارا اپنا وجود نہیں رہے گا تو پھر تمہاری نگاہ میں تمہارے ماحول میں جو دوسری مخلوق ہے وہ بھی تمہیں نیست اور لاشے محض ہی