خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 991 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 991

خطبات ناصر جلد دوم ۹۹۱ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۶۹ء کر دی ہے تو میں جو ہمیشہ حی اور ہمیشہ قیوم ہوں اور میں جو سر چشمہ ہوں ہر قسم کی خیر کا اور منبع ہوں ہر قسم کی بھلائی کا، میری طرف اپنی ماں سے بھی زیادہ رجوع کرو اور میرے ساتھ اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ گہرے اور شدید اور حقیقی اور بچے تعلق کو قائم کرو تا کہ تم ہر قسم کی خیر اور برکت مجھ سے حاصل کرو۔پس اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز حادث ہے وہ اپنی ذات میں زندہ نہیں۔نہ اپنے زور سے وہ زندہ رہ سکتی ہے، نہ اپنے زور سے اپنی قوتوں اور طاقتوں کو قائم رکھ سکتی ہے، نہ اپنے زور اور طاقت سے وہ اپنی استعدادوں کو صحیح طور پر نشو و نما دے سکتی ہے ہر خیر اور ہر بھلائی کسی بھی رنگ کی کیوں نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ سے آتی ہے اس لئے ان چیزوں کو اس سے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پس پہلا سبق ہمیں یہ دیا گیا ہے کہ ہم فنا کو اپنے او پر واردکریں۔ایک ہی ذات کو زندہ اور قائم رہنے والی سمجھیں اور یہ ہمارے رب کی ذات ہے۔توحید حقیقی کا احساس اپنے دل میں پیدا کریں اور وہ اس طرح پیدا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کو ایک مُردہ اور نیست اور لاشے محض سمجھیں۔ہم اپنے نفس کو بھی ، اپنی طاقتوں کو بھی ، اپنے دماغ کو بھی ، اپنی عبادتوں کو بھی ، اپنے اموال کو بھی ، اپنی قربانیوں کو بھی اور اپنے ایثار کو بھی اور دوسروں کو بھی ، غرض ہر چیز کو لاشے محض سمجھیں اور ہر چیز کو بالکل بے حقیقت قرار دیں یہ ہے رکوع اور اس کی حقیقت۔حقیقی عبادت کا دوسرا مطالبہ سجدہ ہے۔یعنی جب نفس پر فنا وار دکر لی تو اس سے ابھی حاصل کچھ نہیں ہوا کہ انسان وہیں ٹھہر جائے یعنی اگر ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز کوزندہ اور قائم رہنے والی ذات نہ سمجھیں تو یہ ایک صداقت ہے لیکن ابھی ہم نے اس مقام پر اس سے کچھ حاصل نہیں کیا اس واسطے دوسرا حکم یہ دیا کہ سجدہ کر و یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کرو اور کامل اطاعت کے نتیجہ میں تمہیں عبودیت تامہ حاصل ہوگی۔ان دونوں چیزوں یعنی ایک یہ کہ اپنے اوپر فا وارد کرنا اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کرنا اس کا نام عبودیت تامہ ہے۔یعنی جب کامل فنا انسان کی ذات پر وارد ہو جائے اور کامل اطاعت کا نمونہ اس کی زندگی میں نظر آنے لگے تو اس صورت میں اگر حقیقتا باطن میں اخلاص اور نیک نیتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ شخص عبد تام ہوگا اور