خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 979
خطبات ناصر جلد دوم ۹۷۹ خطبہ جمعہ ۱۴ / نومبر ۱۹۶۹ء رمضان کی ذمہ داریاں نبھا بنے، عبادات بجالانے اور دعا کے ساتھ مجھ سے مدد مانگو وہ دعا جو عبادت ہے وہ تو صبر کے اندر آجاتی ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا ہے۔یہ ماہ صبر یا ماہ رمضان پانچ عبادات پر مشتمل ہے۔ان عبادات میں دعا بھی شامل ہے۔رات کے نوافل بھی شامل ہیں لیکن اس ماہ کی دعا یعنی ماہ رمضان کی دعا جو نوافل ہیں اور جو عبادات کے طور پر ہیں اس کے علاوہ ایک اور دعا کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔نماز جو عبادت ہے وہ تو صبر کے اندر آتی ہے لیکن یہاں الصلوۃ کے لفظ سے اس معنی میں جو میں کر رہا ہوں ایک خاص دعا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ اگر تمہیں مجھ سے استعانت حاصل کرنے ، مجھ سے مدد حاصل کرنے اور استمداد کی خواہش ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ جتنی طاقت اور قوت اب تک تمہیں مل چکی ہے اور عطا ہو چکی ہے اسے تم میری راہ میں خرچ کرو یعنی اپنی تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ۔صبر جن عبادات کی طرف اشارہ کر رہا ہے (میں نے بتایا ہے کہ یہ لفظ اصولی طور پر تمام ذمہ داریوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ) وہ یہ ہیں۔ا۔دنیا کو خدا کے لئے چھوڑنا۔۲۔خدا کے لئے آفات نفس سے بچنا۔۳۔اللہ کی رضا کے لئے دوسروں سے عدل و انصاف سے بڑھ کر جود وسخا کا معاملہ کرنا۔۴۔اپنے محبوب کی محبت کی تڑپ کی وجہ سے راتوں کی نیند بھول جانا اور اس کا احساس بھی نہ رکھنا۔ہر وقت اور راتوں کو اُٹھ کر بھی اللہ کے حضور جھکنا اس سے پیار کا اظہار کرنا اور اس کے پیار کو طلب کرنا۔۵۔آفات نفس سے بچنا۔یہ پانچوں چیزیں اس جگہ صبر کے لفظ کے اندر آ جاتی ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ماہ رمضان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شَهْرُ الصَّبرِ ( یعنی صبر کا مہینہ ) بھی کہا ہے اور صبر کے معنی ہیں استقلال کے ساتھ ان باتوں پر کار بند رہنا اور بندھے رہنا ( جیسے ایک آدمی دو چیزوں کو باہم باندھ دیتا ہے اور پھر وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتیں ) اسی طرح صبر کے معنی میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ انسان خود کو ان چیزوں سے جن کا ہماری عقل تقاضا کرتی ہے یا جن کا ہماری شریعت ( قرآن کریم ) تقاضا کرتی ہے اس طرح باندھ لے کہ پھر جدائی کا امکان ہی باقی