خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 961
خطبات ناصر جلد دوم ۹۶۱ خطبہ جمعہ ۳۱/اکتوبر ۱۹۶۹ء مجوزہ کمیٹی کو اجتماعوں سے تین ماہ قبل اپنا کام شروع کر دینا چاہیے اور پھر وہ ایک منصوبہ بنا کر اور مجھ سے مشورہ کر کے یہ کام کریں اور سارے مربیوں ، معلموں اور انسپکٹر ان مال تحریک جدید اور انسپکٹر ان مال صدر انجمن احمدیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کی جماعتوں کے نمائندے ان اجتماعوں میں ضرور بھجوائیں۔یہ تو ظاہری تنظیم کے لحاظ سے تھا۔یہاں جس رنگ میں ان کی تربیت ہوتی ہے اس کے لئے زیادہ توجہ کے ساتھ پروگرام بننا چاہیے اور پھر اس پروگرام کو زیادہ کوشش کے ساتھ کامیاب بنانا چاہیے۔مجھے جور پورٹیں ملی ہیں وہ خوش گن ہیں مثلاً لجنہ اماء اللہ کی رپورٹ ہے کہ اس سال ہم نے گذشتہ سال سے زیادہ احاطہ قناتوں میں گھیرا تھا لیکن پہلے ہی دن یہ محسوس ہوا کہ یہ جگہ کم ہے چنا نچہ پھر کافی بڑا حصہ جگہ کا اس احاطہ کے ساتھ ملایا گیا۔خدام الاحمدیہ نے بھی اس سال مقام اجتماع کافی بڑا بنا یا تھا لیکن پچھلے سال کی نسبت کافی بڑا مقام اجتماع ہونے کے باوجود بہت سے دوست شامیانے سے باہر تھے۔انصار اللہ کا بھی یہی حال تھا۔انہوں نے بھی مقام اجتماع گذشتہ سال سے بڑا بنایا تھا لیکن اس احاطہ سے جو قناتوں کے درمیان گھرا ہوا تھا قریباً پچاس فیصدی جگہ قناتوں کو ہٹا کر اس کے ساتھ ملائی گئی لیکن پھر بھی کافی افرادشامیانے سے باہر کھڑے تھے۔پس یہ تو خوشی کی بات ہے کہ افراد جماعت کی توجہ اس طرف زیادہ ہو رہی ہے۔اسی طرح جو مختلف پروگرام ہیں ان کے متعلق بھی جو رپورٹ ملی ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا معیار خدا تعالیٰ کے فضل سے گرا نہیں بلکہ پہلے سے بلند ہی ہوا ہے۔ہرسہ تنظیمیں مختلف رواتیں رکھتی ہیں ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک انفرادیت پائی جاتی ہے۔جب میں انصار اللہ کا صدر تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تھی کہ ان کے سالانہ اجتماع کا پروگرام اس طرح بنایا جائے کہ ایک مضمون سے لے کر یکے بعد دیگر مختصر تقاریر کی جائیں یا لکھے ہوئے مضمون پڑھے جائیں اور پھر اس رنگ میں پڑھے جائیں کہ ان کا اثر دماغوں پر بہت گہرا اور وسیع ہو۔اصل میں تو ہمارا مضمون ایک ہی ہے اور وہ توحید باری ہے لیکن تو حید باری کو سمجھنے کے لئے اور بہت سی را ہیں ہمیں اختیار کرنی پڑتی ہیں مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری عظیم اور بڑی حسین زندگی