خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 948
خطبات ناصر جلد دوم ۹۴۸ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۶۹ء یہ Target ( ٹارگٹ ) جو میں نے جماعت کے سامنے رکھا تھا وہاں تک ہم نہیں پہنچ سکے۔گوگذشتہ سال کے مقابلہ میں قریباً اسی ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن ابھی دولاکھ سے اوپر کا فرق ہے سات لاکھ نوے ہزار روپے کے مقابلہ میں جو وعدے ہوئے ہیں وہ چھ لاکھ بیس ہزار روپے کے ہیں لیکن میری طبیعت میں گھبراہٹ نہیں پیدا ہوئی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کی غفلت کے نتیجہ میں ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک اور وعدہ جماعت نے کیا ہوا تھا جس کی ادائیگی کا زمانہ ختم ہورہا تھا اور جس کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت بھی تھی اور جس کی طرف میں نے بھی جماعت کو بار بار متوجہ کیا اور وہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدوں کو پورا کرنا تھا چونکہ جماعت اس طرف متوجہ رہی اور جماعت نے اس میں بھی کافی مالی قربانی دی ہے۔اس لئے ہمارے سامنے جو مقصود تھا کہ ہم تحریک جدید کے لئے سات لاکھ نوے ہزار روپے جمع کر لیں گے اس میں ہم کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ اس عرصہ میں ( صحیح اعداد وشمار تو اس وقت ہمارے ذہن میں نہیں ) میرا اندازہ ہے کہ پانچ سات لاکھ روپے پاکستانی جماعتوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن میں ادا کئے ہیں اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان پانچ سات لاکھ روپے کی ادائیگی کے ساتھ ہی انہوں نے تحریک جدید کے لئے اسی ہزار روپے کی زائد رقم کا وعدہ کیا ہے تو باوجود اس کے کہ جو Target ( ٹارگٹ ) مقرر کیا گیا تھا اس تک ہم نہیں پہنچنے پائے لیکن پھر بھی جماعت نے بڑی ہمت سے کام لیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص اور قربانیوں میں اور بھی زیادہ برکت ڈالے اور ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ی بھی بڑی خوشکن بات ہے کہ مالی جہاد میں حصہ لینے والوں کی تعداد میں قریباً اڑھائی ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے الْحَمدُ لِلهِ۔ایک اور چیز ہمارے سامنے آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے تحریک جدید کے ہر دفتر ( یعنی اول، دوم، سوم ) کے عطیہ کی جو فی کس اوسط بنتی ہے وہ جماعت کے سامنے پیش کی تھی اور میں نے بتایا تھا کہ دفتر اول میں حصہ لینے والوں کے چندوں کی اوسط فی کس ۶۴ روپے بنتی ہے لیکن دفتر دوم میں حصہ لینے والے کی اوسط فی کس صرف ۱۹ روپے بنتی ہے۔دفتر دوم کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ ترقی کا بڑا وسیع میدان ان کے سامنے ہے۔دفتر دوم کو اس طرف بھی