خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 949
خطبات ناصر جلد دوم ۹۴۹ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۶۹ء کچھ توجہ ہوئی ہے۔چنانچہ سال رواں میں ۱۹ روپے کے مقابلے میں جو اوسط بنی ہے وہ ۲۴ روپے فی کس ہے یعنی ۵ روپے فی کس کا اضافہ ہوا ہے یہ بھی خوشکن ہے لیکن اس اضافہ پر ٹھہر نا نہیں چاہیے بلکہ آئندہ سال اس سے بھی زیادہ اچھی اور خوشکن اوسط فی کس ہونی چاہیے۔ایک اور بات جس کی طرف میں اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تحریک جدید کے وعدے جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔پچھلے سال کے مقابلہ میں اس سال اتنی ہزار روپے زائد کے ہیں اور یہ وعدے چھ لاکھ تیس ہزار روپے کے ہیں لیکن اس وقت تک وصولی صرف تین لاکھ اسی ہزار روپے ہوئی ہے یعنی یکم اپریل تک دولاکھ پچاس ہزار روپیہ اور وصول ہونا چاہیے میں سمجھتا ہوں کہ دفتر کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ یہ رقم پوری ہو جائے گی کیونکہ گذشتہ چھ ماہ میں بڑا حصہ وہ تھا جس میں جماعت کو فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدے پورا کرنے کی طرف توجہ تھی۔یہ وعدے خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہو چکے (سوائے چند استثنائی حالات کے اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے۔ہم اس کے فضل اور رحم پر بھروسہ رکھتے ہیں جو ہم نے کیا یا جو کر سکے ہیں اس کے اوپر ہمارا بھروسہ نہیں کیونکہ انسان محض اپنی قوت یا طاقت یا مال کی قربانی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے خدا کرے کہ ہم اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود جو حقیر رقم بھی اس کے حضور پیش کر چکے ہیں وہ اسے اپنے فضل سے قبول فرمائے اور ہم سب کو اپنی رحمت سے نوازے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ یہ بقیہ دو لاکھ پچاس ہزار روپے کے وعدے بھی انشاء اللہ تعالیٰ چند ماہ کے اس بقیہ عرصہ میں یعنی یکم اپریل تک وصول ہو جائیں گے۔بعض بڑی جماعتیں مالی قربانی کے لحاظ سے بڑی ہی شست واقع ہوئی ہیں جن میں سے ایک راولپنڈی کی جماعت ہے۔دوست ان کے لئے بھی دعا کریں کیونکہ میرا تأکثر یہ ہے کہ جہاں تک کوشش کا تعلق ہے اس میں وہ کمی نہیں کرتے لیکن جہاں تک انسانی کوشش میں برکت کا سوال ہے ان کی کوششوں میں برکت نظر نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔جس خرابی کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوگئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی برکت سے محروم ہو گئے ہیں۔یہ خرابی یا یہ بیماری دُور ہو جائے بعض دفعہ تکبر جماعتی بھی ہوتا ہے یعنی بعض جماعتوں میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے ایسے ہی جس طرح