خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 943 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 943

خطبات ناصر جلد دوم ۹۴۳ خطبہ جمعہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء محفوظ رہے۔وہ تم سے محبت کیسے کر سکتے ہیں ؟ وہ تمہاری مدد اور نصرت کے لئے کیسے آسکتے ہیں پس تم نے ہی وہ سب کچھ کرنا ہے جو کرنا ہے۔تم نے ہی وہ تمام ذمہ داریاں اپنی کوششوں اور اپنی دعاؤں اور اپنی قربانیوں اور اپنی تدبیروں کے ساتھ نبھانی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تم پر ڈالی ہیں اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ یہ یا درکھو کہ ہر وہ کام جس کے نتیجہ میں آسمان سے خیر نازل ہوتی ہے وہ خدا سے پوشیدہ نہیں رہے گا اس لئے یہ خوف نہیں کہ کوئی حقیقی نیکی یا کوئی مخلصانہ قربانی ضائع ہو جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔مگر تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو قابلیتیں اور قو تیں عطا کی ہیں تم ان کا صحیح استعمال کرو ( وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ ) تبھی تمہارے افعال ثمر آور ہوں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں گے اور جو مخلصانہ کوششیں تم کرو گے ( تَجِدُوهُ عِنْدَ اللهِ ) اللہ تعالیٰ ان کی جزا دے گا۔ایک تو یہ کہ اس کے علم میں ہوگا اور دوسرے یہ کہ اس کا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس لئے تمہاری ہر کوشش بار آور ہوگی۔اس کا نتیجہ نکلے گا اور اس کے نتیجہ میں تمہارا مقصود تمہیں حاصل ہوگا اور اس کے نتیجہ میں اسلام کے غلبہ کی راہیں کھولی جائیں گی اور ایک تو کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں اور چونکہ ہر چیز اس کے علم میں ہے تَجِدُوهُ عِنْدَ اللہ تمہاری ہر کوشش کا ایک نیک نتیجہ نکلے گا گو یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دنیا کے ارادے تمہارے ارادے اور اللہ کے ارادے کے موافق نہیں ہیں۔تمہارا ارادہ یہ ہے کہ تم اپنا سب کچھ قربان کر کے اللہ کے اسلام کو دنیا میں قائم کرو نہ مشرک کا یہ ارادہ ہے اور نہ اہل کتاب میں سے جو منکر ہیں ان کا یہ ارادہ اور خواہش ہے اور نہ منافق اور سُست اعتقاد والے کا یہ ارادہ اور خواہش ہے۔پس تمہارے اور تمہارے رب کے ارادے ایک شاہراہ پر گامزن ہیں اور منکر اور منافق کے ارادے اور خواہشات اس کے الٹ طرف جا رہی ہیں۔یہ یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ جو تمام قدرتوں کا مالک ہے اور ہر چیز اس کے قادرا نہ تصرف میں ہے۔نتیجہ وہی نکلا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے دنیا جو چاہے سوچے۔دنیا جو چاہے خواہش رکھے۔دنیا جس طرح چاہے اسلام کے خلاف کوششیں کرے اور کرتی رہے۔دنیا ہر تدبیر اسلام کے مقابلہ پر کرے۔دنیا بعض دفعہ اپنی جہالت کے نتیجہ میں