خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 82
خطبات ناصر جلد دوم ۸۲ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء حصہ لیں لیکن اپنے بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں نہ کریں جو انہیں کرنی چاہیے مثلاً ان کے بچے دوسروں کی نسبت زیادہ گندہ دہن ہوں۔گالیاں ان کی زبان پر ہوں یا توفیق رکھنے کے باوجود اپنے کپڑوں کو زیادہ غلیظ رکھنے والے ہوں یا اپنے ماحول میں گند کو زیادہ پھیلانے والے ہوں تو یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا جب وہ اللہ تعالیٰ کی دنیوی نعمتوں میں حصہ دار خدا کے فضل سے بنائے جاتے ہیں تو جو قر بانیوں کا وقت ہے جو ان پر ذمہ داریاں ہیں ربوہ کے شہری کی حیثیت سے یا ربوہ کے شہریوں میں سے غریب طبقہ ہونے کی حیثیت سے ( غریب طبقہ جماعت کے اموال میں حصہ دار بنتا ہے اور ہر قسم کا ان کا خیال رکھا جاتا ہے ) تو وہ ذمہ داریاں ان کو باہنی چاہئیں۔اگر وہ نہیں نباہیں گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد ٹھہریں گے اس سے بہتر ہے کہ پھر وہ ربوہ کو چھوڑ کے کسی اور جگہ چلے جائیں۔اسی طرح علاج ہے یہاں علاج اتنی آسانی سے میسر آ جاتا ہے اور اتنی مہنگی دوائیں دینے کی اور لینے کی عادت پڑ گئی ہے معالج اور مریض کو کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بھی گناہ کی حد تک پہنچ گئی ہے لیکن ضرورت مند مریض اس کی قدر نہیں کرتے اور بھاگتے ہیں چنیوٹ کی طرف یا لائل پور کی طرف یا لاہور کی طرف یا کسی اور جگہ میں ذاتی طور پر گواہ ہوں اس بات کا کہ ربوہ کے مقابلہ میں کسی اور جگہ اس محبت سے اور اس پیار سے علاج نہیں ہوتا۔میں ایک مثال دیتا ہوں ہم ایک دن کے لئے لاہور گئے غالباً ۱۹۵۷ ء کی بات ہے تو میری ایک بچی پر ا پنڈے سائیٹس کا حملہ ہو گیا ایک دن کے لئے ہم گئے تھے شام کو واپس آنا تھا لیکن بڑا شدید دورہ ہوا ہمیں وہاں ٹھہرنا پڑا رات کو ڈاکٹر نے کہا کہ فوراً آپریشن کر اؤ ایک واقف دوست ڈاکٹر تھے انہوں نے خود ہی جا کے رات کے ۹ بجے آپریشن تھیٹر کھلوایا، نرسوں اور کمپونڈروں وغیرہ عملے کو بلایا اور رات کو آپریشن کیا۔اپنڈیس دکھائی کہ بیمار تھی بڑا اچھا ہوا آپریشن ہو گیا ورنہ زیادہ تکلیف ہو جاتی ہمیں مجبور وہاں رہنا پڑا۔علیحدہ کمرے میں تھی بچی۔اس کو بیماری کے دوران پیچش کا بڑا سخت حملہ ہوا اور بہت نازک حالت ہو گئی اور ڈاکٹر قریباً نا امید ہو گئے مرض کا پہلے تو پتہ نہیں لگا آخر پتہ لگا کہ پیچش ہے۔ایمیٹین سکنین کے ساتھ تجویز ہوئی اب ایسی جگہ بھی جہاں ڈاکٹر واقف اور دوست ،نرسوں کو