خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 907 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 907

خطبات ناصر جلد دوم ۹۰۷ خطبہ جمعہ ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء کا جلوہ ظاہر ہوتا ہے۔ایک شخص مثلاً سال میں بارہ مہینے کام کرتا ہے اور اس کے نو مہینے کی کارکردگی بڑی اچھی ہے لیکن تین مہینے کا کام کسی مجبوری کی وجہ سے جس میں بیماری بھی ہوسکتی ہے ایسی بیماری جس کے نتیجہ میں رخصت لینے پر مجبور نہیں ہوا لیکن جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی پر اثر پڑا۔پس اس کی اُجرت کی تعیین اس کے بہترین کام کے زمانہ کے لحاظ سے ہونی چاہیے یہ نہیں کہ سمو دیا جائے یا یہ نہیں کہ کم کار کردگی یعنی اس کی مجبوری کی وجہ سے جو اس کی کارکردگی متاثر ہو گئی تھی اور اس میں کسی قدر نقص واقع ہو گیا تھا۔اس کے مطابق اس کی اجرت کی تعیین کی جائے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دراصل اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ کام کرنے والا خواہ مزدور ہو یا کلرک کوئی اور منتظم ہو یا مینجر ، جو بھی ہوا سے اپنی قوت اور قابلیت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے پوری توجہ اور محنت سے کارکردگی دکھانی چاہیے اور جنہوں نے ان کی اجرت چکانی تھی اور ان کی مزدوری کی تعیین کرنی تھی ان سے یہ فرمایا ان کی اجرت کی ادائیگی ان کے بہترین کام کے زمانہ کے مطابق ہونی چاہیے یعنی وہ زمانہ جو ان کی کار کردگی کا بہترین زمانہ ہے اس کے مطابق ان کی اُجرت یا مزدوری کا فیصلہ کرنا چاہیے۔یہ فیصلہ خواہ تنخواہ کی صورت میں ہو یا مجموعی نفع میں شرکت کی صورت میں ، دونوں صورتوں میں بہترین کارکردگی کے مطابق اجرت معین ہونی چاہیے۔اس صورت میں ایک اچھے مزدور کو ان ایام میں بھی وہی کچھ ملے گا جن میں وہ بیمار رہا ہے۔بیماری کی وجہ سے اس کو چھٹی لینی پڑی ہو یا بیماری کی وجہ سے اس کی کارکردگی متاثر ہوئی ہو۔بعض دفعہ مثلاً ہلکی سر درد کی وجہ سے انسان سمجھتا ہے کہ میں اتنا بیمار نہیں کہ رخصت لوں لیکن یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اتنا تندرست بھی نہیں کہ حسب معمول زیادہ قابلیت اور محنت اور توجہ سے بہترین کام انجام دے سکے لیکن جب عذر جائز ہو اور بہانہ جوطبیعت کا تقاضا نہ ہو، صحیح عذر ہو، واقع میں وہ بیمار ہو، رخصت لینی پڑے یا بیماری کی وجہ سے اس کے کام پر اثر پڑا ہو، تو اس کے کام میں اس نقص کی بنا پر اس کی تنخواہ یا اس کے نفع کے متوقع حصہ پر اثر نہیں پڑنا چاہیے بلکہ اس کا جو بہترین کام ہے اور بہترین کارکردگی رہی ہے اس کو اس کے مطابق ہی اُجرت ملے گی۔اگر وہ خدانخواستہ بیمار ہو جائے تو بیماری کے ایام میں پوری اُجرت ملے گی۔