خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 887
خطبات ناصر جلد دوم ۸۸۷ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء نعوذ باللہ اس صورت میں ہوتا کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کی نظر کی طرح آپ کی شخصیت پر بھی داغ ہوتا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جس کو ہماری آنکھ داغ دار دیکھتی ہے اس کی ہم پیروی کیوں کریں اور قصور ہمارا ہوتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی غفلت اور بے توجہی کے نتیجہ میں اور اپنی سستیوں اور اُن وساوس کے نتیجہ میں جو شیطان نے ہمارے دل میں پیدا کئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو چھوڑ دیا ہم نے آپ کے بعض نمونوں کو چھوڑ دیا اور اس طرح پر ہم اس چیز میں کامیاب نہ ہوئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم کریں۔یہ ایک بڑا نازک معاملہ ہے۔بڑی اہم ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد کی گئی ہے۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کے ہر پہلو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کاحسن واحسان پیدا کرنے کی کوشش کریں تا اس کے نتیجہ میں یہ اندھی دنیا خدا کے فضل سے روشنی حاصل کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو پہچاننے لگے اور اس طرح پر وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی عزت کا مالک بنایا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں عرب توں کی تقسیم کے لئے ایک منبع قرار دیا تھا اس کو پہچانے لگیں اور اس کے طفیل اور اس کے ذریعہ سے اور اس کی قوت قدسی کے نتیجہ میں اور اس کے افاضۂ روحانی کے بعد اللہ تعالیٰ کی عزت کو پہچانے لگیں جو اصل عرب توں کا مالک ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶ /اکتوبر ۱۹۷۰ء صفحه ۳ تا ۷ ) 谢谢谢