خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 886
خطبات ناصر جلد دوم ۸۸۶ خطبہ جمعہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۶۹ء چھوٹے سے فقرہ میں جیسا کہ میں نے ابھی مختصراً بیان کیا ہے ہم پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔(۱) اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھ کر اپنے نفسوں میں انہیں پیدا کرنا (۲) ان صفات کا اپنے نفسوں میں جلوہ دکھا کر دنیا کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعارف کروا کر انہیں اس طرف لے کر آنا کہ وہ بھی اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات پیدا کریں (۳) تیسری ذمہ داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو اپنے نفسوں میں قائم کرنے والے ہوں یعنی ہمارے ہر قول اور ہر فعل سے یہ ثابت ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اب بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری عرب توں کا سر چشمہ ہیں اور ہر فیض کی کنجی آپ کو عطا کی گئی ہے۔آپ کا وجود خدا نما ہے اور اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے مقرب کو پالینے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کی اطاعت ضروری ہے ہمیں چاہیے کہ ہمارا ہر فعل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق ہو ورنہ دنیا یہ کہے گی کہ تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں اُسوہ کی پیروی نہ کر کے آپ کی عزت پر یہ دھبہ لگایا ہے۔تمہارے نزدیک وہ فعل خدا کی نگاہ میں اتنا معزز نہیں تھا کہ اس کی پیروی کی جائے۔غرض ہمارے فعل کے نتیجہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر دنیا کی نگاہ میں نعوذ باللہ ایک داغ پیدا ہوتا ہے حقیقتا تو وہ داغ نہیں ہوتا کیونکہ اس داغ کے ہم ذمہ دار ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذمہ دار نہیں لیکن دنیا کی نگاہ میں ایک داغ پیدا ہوتا ہے۔دراصل یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کے نتیجہ میں دنیا کی آنکھ میں ایک دھبہ پیدا ہوتا ہے۔جب کوئی دنیا دارا اپنی اس داغ دار آنکھ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہے تو وہی دھبہ جو اس کی آنکھ کا ہے آپ کی شخصیت پر بھی اسے نظر آتا ہے جیسے بڑی عمر کے اور بوڑھے لوگ بعض دفعہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری نظر دھندلا گئی ہے یعنی ہر چیز ہمیں دھندلی دھندلی نظر آتی ہے حالانکہ وہ چیز دھندلی نہیں ہوتی بلکہ جو آنکھ دھندلا گئی ہے اس کا اثر اس کے نفس پر یہ پڑا کہ وہ چیز اُسے دھندلی نظر آئی۔پس ہماری غلطی کے نتیجہ میں یہ نگاہ جس کو ہم نے داغ دار کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک داغ دیکھتی ہے۔گو یہ حقیقت ہے کہ وہ داغ وہاں نہیں ہے بلکہ اس آنکھ میں داغ ہے لیکن اس کا نتیجہ تو اتنا ہی بھیا نک اور خطرناک ہے جتنا