خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 863
خطبات ناصر جلد دوم ۸۶۳ خطبہ جمعہ ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء نے امراض قلوب پر متعدد جگہ روشنی ڈالی ہے۔دل کی ایک مرض نہیں ہوتی بلکہ متعددا مراض ہیں جس طرح جسم کی بھی ایک مرض نہیں انسان مختلف قسم کی غلطیاں کرتا رہتا ہے۔صبح ایک قسم کی غلطی کر بیٹھتا ہے اور شام کو دوسری قسم کی غلطی کا مرتکب بن جاتا ہے ہر مرض کا تعلق انسان کے کسی نہ کسی غلط اقدام سے ہے انسان کی کسی نہ کسی غلط روش کے نتیجہ میں مرض لاحق ہوتی ہے اور ان آیات میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں آتا ہے۔إذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ - (الشعراء : ۸۱) ہر مرض بے اعتدالی اور غلط اقدام کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔تب وہ جسے اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور عطا کیا ہوتا ہے وہ اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا اور توبہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر رجوع برحمت ہوتا اور اس سے پیار کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی شفا کے جلوے اپنی زندگی اور اپنے ماحول میں مشاہدہ کرتا ہے۔دل کا یہ بدقسمت مریض جس کی حالت واقعی قابلِ رحم ہوتی ہے کیونکہ وہ متعدد بار غلطیاں کر بیٹھتا ہے کئی بار شوخیاں دکھاتا ہے اور اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کو دھوکا دینے کے لئے سینکڑوں راہیں اختیار کرتا ہے۔پس جس طرح جسمانی امراض بہت سی ہیں اسی طرح قلب کی روحانی امراض بھی بہت سی ہیں ان میں سے بعض بنیا دی امراض پر قرآن کریم نے روشنی ڈالی ہے اور ان کا علاج بتایا ہے۔ہومیو پیتھی نے ہمیں یہ اصول بتایا ہے کہ انسان کو بعض دفعہ سر سے پاؤں تک بیبیوں امراض لاحق نظر آتی ہیں۔مرض ایک ہی ہوتی ہے باقی دراصل اس مرض کے نتائج ہوتے ہیں۔اگر اس ایک بیماری کو دور کر دو تو اس مرض کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے دوسرے عوارض خود بخود ختم ہو جائیں گے اسی طرح وہ بنیادی مرض جو ایک منافق یا کمزور ایمان والے کے دل میں پیدا ہو سکتا تھا اس کا قرآن کریم نے تفصیل سے ذکر کر دیا باقی امراض کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ اگر یہ مرض دور ہو جائے تو دوسری متعلقہ امراض خود بخو ددور ہو جائیں گی۔بہر حال منافق کی دوسری علامت یہ بتائی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کو تو دھوکا دینا چاہتا ہے مگر اس کا اپنا یہ حال ہے کہ ہر قسم کی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہے۔منافقت نے اس