خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 864
خطبات ناصر جلد دوم ۸۶۴ خطبہ جمعہ ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء کے درخت وجود کو پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے اس کا جسم ایک آتشک زدہ کے جسم کے مشابہ ہے۔جس طرح آتشک وغیرہ کے مریض کے اعضا گلنے سڑنے لگ جاتے ہیں اس صورت میں وہ انسانی جسم کہلانے کا مستحق نہیں رہتا بلکہ عفونت اور گندگی کے ایک لوتھڑے کا مصداق بن جاتا ہے اسی طرح منافق بھی روحانی طور پر گندگی اور نا پاکیزگی اور عدم طہارت کی وجہ سے ایک لوتھڑا ہی ہوتا ہے وہ حقیقی معنوں میں انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا حالانکہ وہ انسان کے زمرہ میں شامل ہے اور انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے لا محدو دروحانی ترقیات کے لئے پیدا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کی تیسری بیماری یا کمزوری یہ بتائی ہے کہ یہ اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں یعنی یا تو اپنی جہالت کے نتیجہ میں خود ہی مصلح بنے پھرتے ہیں اور یا پھر شرارت کی نیت سے ایک مصلح کا رُوپ دھار لیتے ہیں۔بہر حال وہ ایک مصلح کے لباس میں امت مسلمہ میں گھسے رہتے ہیں اور اسے اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دینے کے لئے منافقانہ کارروائیوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔چنانچہ ہماری تاریخ میں اس قسم کی منافقانہ سرگرمیوں کی ایک نہیں دو نہیں بلکہ بیسیوں مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بعض یہودی مسلمان علماء کی شکل میں مسلم معاشرہ کے جزو بن کر تباہی و بربادی پھیلاتے رہے۔سپین میں مسلمانوں کی صدیوں تک حکومت رہی اور ایک وقت تک ان کے رُعب اور ان کے علم وفضل اور ان کے اخلاق فاضلہ نے سارے یورپ پر اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔بڑے بڑے مشہور پادریوں نے سپین میں آکر مسلمانوں سے علوم وفنون سیکھے۔اگر چہ ظاہری طور پر یا سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کا اقتدار سپین کے خطہ ہی پر تھا لیکن حقیقت میں ان کی حکومت سارے یورپ کے ذہن پر اور سارے یورپ کے دل پر تھی لیکن بعض یہودی مسلمانانِ اُندلس کی صفوں میں داخل ہوئے اور مسلمانوں کی عبرتناک تباہی کا باعث بنے۔شروع میں اُنہوں نے مسلمانوں سے کتابی علوم سیکھے کیونکہ اسلامی علوم سیکھنے کے لئے ایمان لانے کی شرط نہیں ہے۔اب عام آدمی بھی مسلمان ہوئے بغیر اپنے ذہن اور حافظہ کی مدد سے اسلامی علوم کے ظاہری حصہ پر حاوی ہو سکتا ہے البتہ کتاب مکنون والے حصے میں جا کر حقیقی نیک اور ظاہری نیک میں عقل و فکر اور غور تدبر کرنے والے فرق کر لیتے ہیں۔بہر حال یہ لوگ دشمنی کی نیت سے اسلام میں داخل ہوئے