خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 822 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 822

خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۲ خطبه جمعه ۲۹ /اگست ۱۹۶۹ء تھے میں نے کروٹ لی تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ساری دنیا گھوم گئی ہے اب نسبتاً افاقہ ہے پھر بھی جھٹکے کے ساتھ یا رکوع سے اُٹھتے وقت چکر آنے کی تکلیف ہو جاتی ہے۔چونکہ مجھے وہ مضمون چھوڑنا پڑا تھا اس لئے میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری رہنمائی فرمائے اور کوئی دوسرا مضمون میرے دماغ میں آجائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کے نتیجہ میں اپنے فضل سے میری زبان پر صبح ہی وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ کا فقرہ جاری کر دیا میں نے اس سے پہلی آیت کو ملا کر اس کے معانی و مطالب پر غور کیا دراصل ان دونوں آیتوں کے بڑے وسیع معانی ہیں لیکن اس وقت میں ان کے بہت سے معانی میں سے صرف ایک معنی بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔اللہ تعالیٰ کا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دینا کہ اے رسول! آپ دنیا کو اپنے قول اور فعل سے یہ بتا دیں کہ میری عبادت اور میری قربانی بھی ، میرا جینا بھی اور میرا مرنا بھی سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔اس میں در اصل عبادت اور قربانی کا تعلق بھی مماتي “ “ ہی سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا سوال ہو یا اس کی راہ میں دوسری قربانیاں دینے کا سوال ہو، اس سے دعائیں کرنے کا سوال ہو یا اس کی تسبیح کرنے کا سوال ہو ان سب عبادات اور قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر ایک موت وارد کرنی پڑتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا بندہ جب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے موت کو قبول کرتا ہے تو یہ موت اس کی دائمی فنا کا باعث نہیں بنتی بلکہ اس کی دائمی حیات کا باعث بن جاتی ہے اگر انسان اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ میں فنا ہو کر اس کی ہر صفت اور اس کی ہر صفت کے ہر جلوے کے سامنے اپنی گردن رکھ دے تو اُسے اپنے رب سے ہر پہلو اور ہر زاویہ سے ایک کامل اور مکمل حیات نصیب ہوتی ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چونکہ جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتیں اس رنگ میں کامل اور مکمل تھیں کہ کوئی انسان پہلوں اور پچھلوں میں سے ان کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتا کیونکہ آپ نے کمال فنا کے ذریعہ ایک کامل حیات پائی تھی۔آپ نے اپنی اس حیات مقدسہ کو اپنی ذاتی اغراض کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ آپ زندگی بھر تو حید خالص کے قیام میں ہمہ تن کوشاں اور