خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 823
خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۳ خطبه جمعه ۲۹ اگست ۱۹۶۹ء بنی نوع انسان کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف رہے۔ویسے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنے نفس پر موت وارد کرنے سے ذات تو پہلے ہی فنا ہو چکی ہوتی ہے اس لئے ذاتی اغراض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ تو ہمارے اس بیان میں تضاد واقع ہو جائے گا۔پھر لَا شَرِيكَ له میں بتایا کہ ایسا انسان شرک کی ہر راہ سے بچنے والا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے جلوؤں کا مظہر ہوتا ہے۔اگر چہ اللہ تعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں اور ان سب کا اپنے علم میں احاطہ کر کے ان کا مظہر بنا انسان کے بس کی بات نہیں تا ہم انسانیت کے ساتھ جن صفات اور ان کے جلوؤں کا تعلق ہے ہر انسان بقدر استعداد اور کوشش ان کا مظہر بن سکتا ہے اور ایسے انسان کی زندگی دراصل اللہ تعالیٰ کے جلال کی مظہر اور اس کی عظمت اور کبریائی کے قیام کا باعث ہوتی ہے۔ایسی مبارک زندگی میں سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی مظہر اتم تھی۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی عظمت اور کبریائی کو قائم کرنے میں دن رات ایک کر دیا اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی ہر مخلوق خصوصاً بنی نوع انسان کو ہر قسم کے دکھوں سے بچانے اور ہر قسم کے سکھ پہنچانے میں اپنے خلق عظیم کا بے نظیر مظاہرہ کیا۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اللہ تعالیٰ کی صفات کا کامل مظہر تھا۔آپ نے جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کی کبریائی کو دنیا میں ظاہر کیا اُس رنگ میں نہ کسی اور انسان نے ظاہر کیا اور نہ کر سکتا تھا کیونکہ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ کا کمال مظاہرہ آپ ہی نے کیا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا سب سے زیادہ علم آپ ہی کو تھا کیونکہ جب تک الہی صفات کا علم نہ ہو اللہ تعالیٰ کی پیروی نہیں کی جاسکتی اور اس کی صفات کا مظہر نہیں بنا جا سکتا۔اگر آپ قرآن کریم پر ایک سرسری نظر ڈالیں اور پہلے انبیاء علیہم السلام پر نازل ہونے والی کتب جس رنگ میں بھی وہ اس وقت موجود ہیں گو پوری طرح اپنی اصلی شکل میں وہ نہیں ہیں لیکن یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کوئی بھی نورانی جھلک اُن کے اندر نہیں پائی جاتی۔بہر حال ان کتب سابقہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی اس تعلیم سے جو قرآن کریم پر مشتمل ہے مقابلہ وموازنہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے وہ جلوے اُن میں نظر نہیں آتے جو ہمیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم