خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 807
خطبات ناصر جلد دوم ۸۰۷ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ء حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ہمیں ہر مقام کے انسان کا احترام کرنا چاہیے فرمائی:۔خطبه جمعه فرموده ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ء بمقام احمد یہ ہال۔کراچی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا - (الكهف : ١١١) قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ۔( حم السجدة : - ) اس کے بعد فرمایا:۔انبیاء علیہم السلام ہر قوم اور ہر زمانہ میں مبعوث ہوتے رہے ہیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بنی نوع انسان کو انسانی شرف اور عزت اور مرتبہ کا علم نہیں دیا گیا تھا کیونکہ ابھی وہ اپنی جسمانی اور روحانی ارتقا کے دور میں اس مقام پر نہیں پہنچے تھے جہاں وہ اس بات کو سمجھ سکتے کہ انسان اشرف المخلوقات کی حیثیت میں پیدا کیا گیا ہے اور مقصدِ حیات بشریت ہی کے ساتھ وابستہ ہے۔اس لئے پہلی کتب کی تعلیموں کا تعلق صرف ان اقوام کے ساتھ نظر آئے گا جن