خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 806
خطبات ناصر جلد دوم ۸۰۶ خطبه جمعه ۱۵ راگست ۱۹۶۹ء پر وہ اپنے ہاتھ سے چرخیاں ڈال رہے ہیں مرتی کو ایک نمونہ بن کر دنیا کے سامنے آنا چاہیے اور وہ نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے مگر وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گو حقیقتا جتنے مربی ہمارے پاس ہیں وہ تعداد کے لحاظ سے بہت کم ہیں لیکن ان کی تعداد کے لحاظ سے بھی ایک چوتھائی کام ہو رہا ہے اور تین چوتھائی کام ان کی غفلتوں کے نتیجہ میں نہیں ہوتا وہ گھر بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے کام کی طرف توجہ نہیں کرتے ان کے اندر قربانی کی روح ، جوش اور جنون کی کیفیت نہیں مجھے یہ دیکھ کر بڑا رنج ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اپنی رحمتوں کے اس قدر وسیع دروازے کھولے تھے مگر وہ ان کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو گئے ہیں اور اس طرف قدم بڑھانے کا نام نہیں لیتے ان کو دعا کرنی چاہیے اور میں تو دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں کو دور کرے اور ان کی بصیرت اور بصارت کو تیز کرے اور ان کے دل میں اس محبت کے شعلہ میں اور بھی شدت پیدا کرے جو ایک مربی کے دل میں اپنے رب کریم ورحیم کے لئے ہونی چاہیے۔پس مربیوں کو بھی چاہیے اور عام عہدیداروں کو بھی چاہیے بلکہ ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو بھی اور اپنے بھائی کو بھی یہ تلقین کرے کہ وہ وقف عارضی میں شامل ہو۔اس میں شک نہیں کہ یہ ایک قربانی کی راہ ہے اور یہ راہ تنگ ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ قربانی کی راہوں پر چلے بغیر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان کو نباہنے کی توفیق عطا کرے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۷ /اگست ۱۹۶۹ ء صفحه ۳ تا ۵)