خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 805
خطبات ناصر جلد دوم ۸۰۵ خطبه جمعه ۱۵ /اگست ۱۹۶۹ء وفودا اپنی جائز مجبوریوں کی وجہ سے اپنی مقررہ جگہوں پر پہنچتے نہیں لیکن بہر حال اتنے وفود یہاں سے منظم کئے گئے اور ان کو باہر بھجوایا گیا حسابی لحاظ سے میرا سات ہزار کا مطالبہ پورا ہو جاتا ہے بشرطیکہ ہر سہ ماہی میں اتنے ہی وفود منظم کئے جائیں لیکن سہ ماہی سہ ماہی میں بڑا فرق ہے مثلاً ایک فرق تو یہی ہے کہ بعض سہ ماہیوں میں کالج اور سکول کے طلبا وقف عارضی میں باہر جا سکتے ہیں کیونکہ انہیں چھٹیاں ہوتی ہیں لیکن بعض سہ ماہیاں ایسی آتی ہیں جن میں کالج اور سکول کے طلبا باہر نہیں جاسکتے پھر بعض سہ ماہیوں میں زمیندار لوگ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حدود کی حفاظت کے لئے باہر نکل سکتے ہیں اور بعض ایسے زمانے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے دنیوی کاموں میں لگے رہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی دنیاوی کام بھی خدا تعالیٰ ہی کے لئے کرتا ہے۔بہر حال وہ د نیوی کا موں میں خدا کی راہ میں چندہ دینے کی نیت سے یا اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے خیال سے محنت کر رہے ہوتے ہیں وہ انہیں چھوڑ نہیں سکتے۔یہ طبقہ اس زمانہ میں وقف عارضی کے لئے نہیں آسکتا یہ سہ ماہی جو گزر چکی ہے ایسی تھی جس میں طالب علم وقف عارضی کی غرض سے باہر جا سکتے تھے اور میرے خیال میں بہت سے طالب علم گئے ہوں گے۔آئندہ سہ ماہیوں میں ایسے نوجوان جو کالج اور سکول میں پڑھنے والے ہیں کم ملیں گے لیکن کم از کم اس تعداد کو جو گزشتہ سہ ماہی میں وقف عارضی میں جا چکی ہے پورا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے گو یہ تعداد بھی ہماری ضرورت کے لحاظ سے کم ہے لیکن ابھی ابتدا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق دے گا اور وہ اور ترقی کرے گی۔انشاء اللہ۔غرض جماعت کے عام عہدہ دار اور مربی صاحبان وقف عارضی کی طرف زیادہ توجہ دیں میں جب مربیوں کی رپورٹیں دیکھتا ہوں ان کے کام کا جائزہ لیتا ہوں وہ مجھے ملتے ہیں یا ان کے حق میں بعض تعریفی کلمات آتے ہیں یا ان کے خلاف شکایات مجھے پہنچتی ہیں تو میرے ذہن میں ایک مجموعی تاثر قائم ہوتا ہے اور بہت سے مربیوں کے متعلق میرے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان خوش بختوں نے اپنے مقام کو پہچانا نہیں اور جو خوش بختی ان کے مقدر میں لکھی جاسکتی تھی اس