خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 802
خطبات ناصر جلد دوم ۸۰۲ خطبه جمعه ۱۵ راگست ۱۹۶۹ء نہیں ہوسکتا اس پر اجر کا حق نہیں بنتا دوسرے فَلا كُفْرَانَ لِسَعیہ ہمیں بتاتا ہے کہ گوحق تو انسان کا نہیں بنتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرو گے اور فساد سے بچو گے اور ہر جہت سے تمہارے اعمال، اعمالِ صالحہ ہوں گے تو پھر تمہاری یہ کوشش اور تمہاری یہ جد و جہد رد نہیں کی جائے گی بلکہ اس پر تمہیں مزید انعامات ملیں گے۔مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے اس کے نتیجہ میں اس کا ہر قدم پہلے سے آگے پڑتا ہے۔وہ ترقی کی راہ اور رفعتوں کے حصول میں ہر دم آگے سے آگے اور بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی قربانیاں ہر آن پہلی قربانیوں سے آگے بڑھ رہی ہوتی ہیں اس کی فدائیت اور اس کا ایثار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی جستجو میں اس کی کوشش اور مجاہدہ پہلے سے بڑا ہوتا ہے۔مومن ایک جگہ ٹکتا نہیں اس سے اس کے دل، اس کے دماغ ، اس کے سینہ اور اس کی روح کو تسلی نہیں ہوتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ یہ جماعت مخلصین کی جماعت ہے إِلَّا مَا شَاء اللہ ہر الہی جماعت میں منافق بھی ہوتے ہیں ) اور ایک ایسی فدائی اور ایثار پیشہ جماعت ہے کہ جس کا قدم ہر وقت ترقی کی طرف ہی ہے۔پھر یہ غفلت کیوں؟ اس شستی کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ جماعت نے رضا کارانہ طور پر ایک مزید بوجھ قربانی کا اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا اور وہ بوجھ فضل عمر فاؤنڈیشن کے چندوں کا تھا اور پچھلے چند مہینے ان وعدوں کو پورا کرنے کی طرف جماعت کے بہت سے احباب کی توجہ تھی اس لئے شائد کچھ کمی واقع ہوگئی ہو۔اب اس کا زمانہ تو گزر گیا استثنائی طور پر بعض احباب کو اجازت دی جارہی ہے اس لئے جماعت کو چاہیے کہ عارضی طور پر جو داغ ان کے کردار پر لگ گیا ہے یعنی وہ پچھلے سال سے بھی ان چندوں کی ادائیگی میں کچھ پیچھے رہ گئے ہیں اس کو جلد سے جلد دھوڈالیں اور دو مہینوں کے اندر اندر ان کی قربانیاں پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ نظر آنی شروع ہو جائیں۔اُمید ہے (اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ) کہ جماعت اس بات کی توفیق پائے گی۔دوسری بات میں اختصار کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ مومنون کی اس