خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 784 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 784

خطبات ناصر جلد دوم ۷۸۴ خطبه جمعه یکم اگست ۱۹۶۹ء زندہ تعلق قائم نہیں کریں گے تو ان کی تباہی کا زمانہ باوجود ان کی تہذیب کے عروج پر ہونے کے بالکل قریب ہے۔ان کا ہلاکت و بربادی کے گڑھے میں گر جا نا یقینی ہے لیکن ان اقوام کو صرف متنبہ کر دینا کافی نہیں۔اس کے مقابلہ میں آج جو ذمہ داری جماعت احمدیہ پر عائد ہوتی ہے اس کو سمجھنا اور پہچاننا اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا از بس ضروری ہے۔ورنہ ہم اسلام کا وہ انقلاب عظیم دنیا میں بپا نہیں کر سکتے جس کی ہمیں بشارت دی گئی ہے اور جس کی ہم خواہش اور توقع رکھتے ہیں۔یہ انقلاب عظیم جسموں کو ہلاک کرنے یا جسمانی طور پر انسان کو اسیر بنا لینے یا ذہنی طور پر اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے سے رونما نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے ہمیں انسان کے دل کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنا ہوگا۔آپ تاریخ اسلامی پر غور کریں آپ دیکھیں گے کہ قرونِ اولیٰ میں اسلام کو اپنے زمانے کے لحاظ سے تمام اقوام اور تمام ممالک پر غلبہ حاصل ہوا پہلی تین صدیوں کے بعد اگر چہ اسلام کا دور تنزل شروع ہو گیا تھا لیکن اس تنزل کے پہلو بہ پہلو مختلف علاقوں میں ہمیں اسلام کی ترقی کا زمانہ بھی نظر آتا ہے اور اس دور تنزل میں بھی اسلام کے حسن واحسان کے جلوؤں کی جھلک نظر آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے کہ اسلام کے تنزل کے دور میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین پر تقرب الہی کے دروازے اس کثرت سے کھلے ہوئے تھے کہ مقتر بین ایک سمندر کی طرح نظر آتے تھے گو اس وقت اسلام اپنے ابتدائی دور کے عروج کے مقابلہ میں تنزل کا شکار تھا لیکن پھر بھی غیر اقوام یا غیر مذاہب کے زمانے اسلام کے اس دور تنزل سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔اب پھر اسلام کے عروج کا زمانہ آ رہا ہے۔یعنی اب پھر قربانی دینے کا ، عقل کو خدا تعالیٰ کے لئے استعمال کرنے کا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پھیلانے کے لئے اپنی قوتوں اور استعدادوں کے خرچ کرنے کا زمانہ لوٹ آیا ہے۔اسلام جب اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا پر غالب آ گیا تھا اس زمانہ کی تاریخ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں صرف یہی نظر نہیں آتا کہ مناظرے ہو رہے ہیں بخشیں ہو رہی ہیں علمی اور عقلی دلائل دیئے جا رہے ہیں جن سے قرآن کریم