خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 768
خطبات ناصر جلد دوم ۷۶۸ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء در میان بلحاظ مرتبہ و مقام کے فرق کو میں نے دوسری آیات سے لیا ہے ویسے آیت زیر بحث میں عام معنی مراد ہیں یعنی ہر زمانہ کے انسان کو بحیثیت انسان یہ چاروں قسم کی قوتیں اور قابلیتیں عطا ہوتی رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان دیکھ ! میں نے تجھے جسمانی ، ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قوتوں سے سرفراز کیا ہے اور پھر ان کی صحیح نشو و نما کے لئے خود تیری رہنمائی کی ہے خود تیری انگلی پکڑی اور تجھے سیدھے راستے پر چلایا ہے۔ہم نے تجھے ایسے کان دیئے ہیں جو دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوئے۔ہم نے تجھے ایسی آنکھیں دی ہیں جو دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوئیں۔ویسے شاید ہمارے بچے حیران ہوں کہ آنکھ کی عطا کا صرف انسان پر حصر کیوں کیا جا رہا ہے حالانکہ ہرن کو بھی آنکھ دی گئی ہے ، عقاب کو بھی آنکھ دی گئی ہے ، مرغابی کو بھی آنکھ دی گئی ہے اور مرغی کو بھی آنکھ دی گئی ہے۔تمام پرندوں چرندوں کو آنکھیں دی گئی ہیں حتی کہ رینگنے والے بعض کیڑوں تک کو آنکھیں دی گئی ہیں۔لیکن یہاں عام طور پر مخلوقات کو جو آنکھیں دی گئی ہیں ان کا یہاں ذکر نہیں ہے یہاں اس آنکھ کا ذکر ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہو گا یعنی وہ نابینائی اور اندھا پن جس کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی وحی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے انقلاب کو دیکھنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کی قوتوں کو وہ کمال حاصل نہیں ہو سکتا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں کان دیئے ہیں جن سے تم میری وحی کوسن سکتے ہو میں نے تمہیں آنکھیں دی ہیں جن سے تم اپنی بصارت اور بصیرت کے نتیجہ میں میری آیات کو دیکھ سکتے ہو۔میں نے تمہیں ایسا ذہن عطا کیا ہے کہ کان اور آنکھ کے ذریعہ سے جو علم تم حاصل کرتے ہو اس سے وہ صحیح نتیجہ نکال سکتا ہے گویا انسان ان قومی کے ذریعہ اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے ہر فردا اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے ، ہر قوم اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہے۔بنی نوع انسان اپنے کمال کو پہنچ سکتے ہیں۔مسلمان قرآن کریم کے پہلے مخاطب ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں غیروں سے ممتاز کرنے کے لئے فرقان بخشا ہے۔اسلام مسلمان سے وعدہ کرتا ہے کہ اگر وہ قرآنی تعلیم پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کرے گا اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جائے گا اور اس کی عبادت کے تمام