خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 764 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 764

خطبات ناصر جلد دوم ۷۶۴ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء کیونکہ جانوروں کی ذہنی نشو و نما صرف عادت یا تجربے سے تعلق رکھتی ہے۔عقل و فکر اور تدبر و بیان کی قوت انہیں حاصل ہی نہیں یہ شرف صرف انسان کے حصہ میں آیا ہے۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علاوہ جسمانی قوتوں اور قابلیتوں کے اسے ذہنی اور اخلاقی اور روحانی قوتیں اور قابلیتیں بھی عطا کی تھیں اور ساتھ ہی ہر قسم کی قوتوں کی کامل نشو ونما کے سامان بھی پیدا کئے تھے اور اس سے الہی منشا یہ تھا کہ انسان جہاں اپنی جسمانی قوتوں کی نشو و نما کو اس کے کمال تک پہنچائے وہاں وہ اپنی ذہنی ، اپنی اخلاقی اور اپنی روحانی قابلیتوں کو بھی ان کے نشو و نما کے کمال تک پہنچائے۔اس کے لئے انسان کو کسی حد تک آزادی اور اختیار دینا ضروری تھا اور چونکہ اختیار دینا تھا اس لئے ی بھی ضروری تھا کہ اس کے لئے ہدایت یا رہنمائی کے سامان مہیا کئے جائیں تا کہ اس ہدایت کی رہنمائی میں اس کی تمام قوتوں کی کما حقہ نشوونما ہو سکے اور وہ بنیادی ہدایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔یہی وہ بنیادی ہدایت ہے جس کا تمام انبیاء پر چار کرتے رہے ہیں ہر ایک اُمت نے اپنے اپنے وقت میں اپنی قوتوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے کے لئے اس ہدایت سے فائدہ اُٹھایا لیکن اُمت محمدیہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کے نتیجہ میں اور اس کامل ہدایت کی وجہ سے جو آپ پر نازل ہوئی خیر امت قرار دی گئی۔اس تعلیم سے امت محمدیہ نے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھایا اور انہیں اُٹھانا بھی چاہیے تھا کیونکہ قرآن کریم سے باہر اس قسم کی کوشش کہ انسان اپنے رب کی صفات کا کامل طور پر ہمرنگ بن جائے اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا لباس جسے ہم لباس تقویٰ بھی کہتے ہیں وہ پہن لے یہ شرف امت محمدیہ کے با ہر ممکن ہی نہیں کیونکہ دوسرے مذاہب کے پاس کامل شریعت نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے چونکہ صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشوونما کے سامان بھی پیدا کئے ہیں۔اس لئے جہاں تک انسان کا تعلق تھا اللہ تعالیٰ نے تدبیر کامل کے ایک حصہ کو انسان کے لئے چھوڑ دیا۔لیکن جہاں تک دوسری مخلوق مثلاً جانوروں اور درختوں اور پودوں کا تعلق تھا، پتھروں اور ہیروں اور جواہرات کا تعلق تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں پر اپنی تدبیر کا کامل جلوہ ظاہر فرمایا۔ان کی ساخت و پرداخت میں کسی اور کی مدد یا ان کی اپنی تدبیر