خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 732
خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۲ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء حاصل کریں۔لیکن وہ اس بات کو سمجھتے نہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یتیم کی عزت نہیں کرتے ،مسکین کے حقوق ادا نہیں کرتے اور جو مال انہیں ملتا ہے نہ صرف وہ مال جسے وہ خود کماتے ہیں بلکہ وہ مال بھی جسے وہ ورثہ میں پاتے ہیں جس کی کمائی میں ان کی کوشش کا کوئی دخل نہیں ہوتا اس سارے مال اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ باقی نعمتوں کا بھی غلط استعمال کرتے ہوئے اسے وہ عیش وعشرت میں اُڑا دیتے ہیں۔وہ مال سے انتہائی محبت کرتے ہیں اس کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں۔اس کی پرستش شروع کر دیتے ہیں اور اس مال کی خاطر اللہ تعالیٰ کو ٹھکرا دیتے ہیں اور دنیا کی اس عارضی لذت کی خاطر ابدی طور پر عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے کے شرف سے خود کو محروم کر لیتے ہیں۔حالانکہ جب اللہ تعالیٰ کی عزت کی نگاہ انسان پر پڑ جاتی ہے تو انسان ہر قسم کی مسرتوں کا وارث بن جاتا ہے۔پس نفس کی پہلی اور بنیادی آفت یہ ظلم ہی ہے گو باقی آفات نفس بھی ظلم ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ان شکلوں کو ہم نے مختلف نام دیئے ہیں کیونکہ ہر آفت کا تعلق یا تو اپنے حق سے زائد لینے یا حق سے کم دینے سے ہے۔نفس کی دوسری آفت حرص یعنی لالچ ہے مثلاً مال سے بہت زیادہ محبت کرنا سورۃ فجر کی مذکورہ بالا آیت کے بعد اس سورۃ کے آخر میں بھی اس کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَبًا (الفجر :۲۱) اس خصلت رذیلہ کے نتیجہ میں اقتصادی دنیا میں دوز بر دست اور ہلاکت کی طرف لے جانے والی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انسان مال کے لالچ کے نتیجہ میں احتکار کرتا ہے یعنی اس کے پاس جو اشیا اور اموال فروخت کے لئے ہوتے ہیں وہ ان لوگوں کو جنھیں ان کی ضرورت ہوتی ہے قیمتا بھی نہیں دیتا بلکہ ان کو رو کے رکھتا ہے اور اس طرح مخلوق خدا کو تکلیف میں ڈالتا ہے حالانکہ ان لوگوں کا یہ حق خدا تعالیٰ نے قائم کیا تھا کہ اس سامان کو جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت پیدا کیا اس میں سے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے خریدیں لیکن یہ شخص لوگوں کو ان کی ضرورت کے وقت خرید نے کے حق سے ان کو محروم کر دیتا ہے اور مال کو روک رکھتا ہے اور اس سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے اور