خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 726
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۶۹ء کے متعلق پیشگوئیوں کا پورا ہونا ایسے خوارق عادت نشان ہیں جو ظاہری اسباب پر نظر رکھتے ہوئے انہونی باتیں دکھائی دیتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پوری کر دیتا ہے مگر یہ تائید آسمانی یعنی نصرت الہی اور توفیق باری تعالیٰ انسان کو خلق عظیم کا ظل دنیا پر ظاہر کرنے سے ملتی ہے اور یہ بات اپنے اثر کے لحاظ سے بہت زیادہ مؤثر ہے۔پس ہمیں ساری چیزوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔وہ تمام علوم جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے خلفاء کے ذریعہ جماعت کو دیئے ہیں وہ سیکھنے چاہئیں اور یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا معلم اور استاد بن جائے اگر ہر احمدی یہ سوچے کہ میرے لئے یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر یہ فضل کرے اور وہ خود میرا معلم بن جائے تو اسے بڑی لذت محسوس ہوگی ہماری جماعت میں آج بھی سینکڑوں ہزاروں آدمی ایسے بھی ہیں جو تھوڑی یا بہت تعلیم اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں ہمارے نوجوان مبلغ باہر جاتے ہیں ان کے علم یا ان کی قابلیت یا ان کی وجاہت پر ہمیں بھروسہ نہیں ہوتا ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے اور وہی ہماری توقعات کو پورا کرتا ہے اور ہمیں دکھ میں نہیں ڈالتا اور بڑے بڑے پادری ہمارے مبلغین سے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔بلی گراہم جیسا بڑا آدمی جس کے متعلق کہتے ہیں کہ امریکہ کے پریذیڈنٹ نے اسے خاص طور پر بلا کر کئی گھنٹے تک اس سے باتیں کیں جب وہ افریقہ میں آیا تو ہمارے نوجوان مبلغوں نے جن کی دنیوی حیثیت (اب مدد کا ایک حصہ دنیوی حیثیت والا بھی بن گیا ہے ) نہ ہونے کے برابر ہے بیچارے غریب جنہیں پیٹ بھر کر کھانے کے لئے بھی نہیں ملتا تھوڑا سا پڑھے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے فضل کی انگلی پکڑ کر وہاں پہنچ گئے تھے اور ہم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا تھا وہ اس کے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے چنانچہ اس کو افریقہ میں ان الفاظ میں یہ اعلان کرنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے چرب زبانی تو دی ہے لیکن آسمانی تائید اور آسمانی نشان میرے ساتھ کوئی نہیں جب اس کو یہ کہا گیا کہ تم کہتے ہو کہ نجات خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے پر منحصر ہے تو قبولیت دعا جسے خود حضرت مسیح علیہ السلام نے ( جسے تم خداوند یسوع کہتے ہو ) ایمان کی نشانی بتائی ہے اس میں مقابلہ کر لو۔مگر اس نے کہا کہ آسمانی تائید؟ اللہ تعالیٰ کی محبت کا سلوک