خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 722
خطبات ناصر جلد دوم ۷۲۲ خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۶۹ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایسے معجزے انسانوں پر اتنا اثر نہیں کرتے جتنا اچھے اخلاق کرتے ہیں۔فتح مکہ اپنی جگہ ایک حقیقت اور ایک بڑا عظیم معجزہ ہے اور اسلام کے حق میں عظیم الشان نشان ہے لیکن اس عظیم فتح کا کفار مکہ پر اتنا اثر نہیں ہوا جتنا ان پر اسی دن 66 اخلاقی معجزہ کا اثر ہوا تھا۔کیونکہ جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے لا تقریب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ، فتح مکہ کا اعلان نہیں ہوا اس وقت تک ان کے دلوں کی حالت اور تھی لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عظیم خلق اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان لوگوں کے جنہوں نے ساری زندگی آپ کو تکلیفیں دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی سارے گناہ معاف کر دیئے تو ان کے دلوں کی حالت فوراً بدل گئی۔ایک دوسرے سے بشاشت سے ملنے اور حسن سلوک سے پیش آنے کا جوخلق ہے اس کے بعض منفی پہلو بھی ہیں جو اخلاق کو گھن کی طرح کھاتے رہتے ہیں جیسے مثلاً راولپنڈی کے ارد گرد کی بہت ساری زمین Erosion کے نتیجہ میں خراب ہو گئی ہے۔اسلامی اخلاق کو بھی بعض دفعہ Erosion لگ جاتا ہے پس ایسی بداخلاقیوں سے بچنا چاہیے اس کے برعکس ہر ایک سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ہر ایک کے ساتھ پیار سے ملنا چاہیے خصوصاً غریب لوگوں سے۔خصوصاً اس سے جو دنیا کا دھتکار ہوا ہے خصوصاً اس سے جو سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں وہ لاوارث ہے۔اس کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ لاوارث نہیں ہے کیونکہ رب العلمین کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو اس کی کسی مخلوق کو لا وارث نہیں رہنے دیں گے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو بھی لا وارث نہیں رہنے دیں گے۔ہمارا ایک مسئلہ ہے۔جماعت احمدیہ غیروں کا جنازہ نہیں پڑھتی۔یہ مسئلہ اپنی جگہ ٹھیک ہے اور اس پر ہمارے مخالف کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ نماز جنازہ پڑھنا فقہی اصطلاح میں فرضِ کفایہ ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کی نماز جنازہ دس آدمی پڑھ لیں تو باقی امت مسلمہ گناہگار نہیں ہوتی کیونکہ اس کا جنازہ ہو گیا لیکن اگر ایک بھی نہ پڑھے تو ساری کی ساری اُمت مسلمہ گناہگار ہو جاتی ہے پس معترض سے پوچھنا چاہیے کہ تمہارے نزدیک بھی مسئلہ