خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 701 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 701

خطبات ناصر جلد دوم 2 +1 خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء وہ اس کے ذریعہ سے اس کا امتحان لینا چاہتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کو ایک کروڑ رو پیدیا اور اسے کہا کہ تیرا اس میں حصہ صرف دو لاکھ ہے باقی ۹۸ لاکھ جن کا حصہ ہے ان تک پہنچا دو اس کی تفصیل انشاء اللہ بعد میں زیر بحث آئے گی۔پس اگر بخل اور حرص ہے تو جو مال بطور امتحان کے خدا تعالیٰ نے اسے دیا ہے وہ حقدار کو نہ دے گا بلکہ دوسرے کا حق چھینے کی کوشش کرے گا کہ میرے پاس ہی آجائے پھر ظلم کرے گانفس کی حرص اور بخل اور ظلم ہی کی آفت تھی کہ قرآن کریم نے کہا کہ تولتے وقت صحیح تو لا کرو۔بخل، حرص اور ظلم کی یہ تثلیث بھی بڑی ظالم بنتی ہے کہ جو کہتی ہے کہ دیتے وقت کم تول، لیتے وقت زیادہ تول پھر قرآن کریم نے کہا ہے کہ جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال لے لیتے ہو یہ باطل ہے قرآن کریم نے باطل کا لفظ حق کے مقابل پر استعمال کیا ہے۔پس جو حق خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس کو یہ حرص اور بخل اور ظلم توڑنے والا ہے اور یہ نفس کی کمزوریاں اقتصادی خرابیوں کا موجب بنتی ہیں۔غرض انسان کو یہ پتہ لگنا چاہیے اور اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نفس میں بڑی کمزوریاں ہیں مثلاً بخل ہے، حرص ہے اور ظلم ہے، دوسرے ہزار قسم کے اخلاق رذیلہ ہیں جو نفس میں پائے جاتے ہیں جن سے مغلوب نہیں ہونا،شکست نہیں کھانی، اس توحید علمی سے یہی نتیجہ نکلتا ہے اور ہر نفس یہی نتیجہ نکالے گا کہ ہر عیب سے پاک اور ہر کامل صفت سے متصف اللہ ہی کی ذات ہے۔جہاں تک توحید علمی کا حق نفس کے ساتھ تعلق ہے وہ یہ ہے کہ انسان عزم کر لے کہ ان اخلاق رذیلہ کا میں نے بالکل قلع قمع کر دینا ہے اور ان کو کاٹ کر رکھ دینا ہے یعنی بجائے اس کے که نفس اماره انسان پر غالب ہو وہ نفس اتارہ اور اس کی ساری خواہشات کو ملیا میٹ کر دے اور ان پر وہ کاری ضرب لگائے کہ ان کا خطرہ ہی باقی نہ رہے۔پس عملاً نفس امارہ کی بُرائیوں اور کمزوریوں پر غالب آجانا یہ توحید عملی ہے اور اس کے ساتھ پھر یہ بھی کہ تمام رزائل سے خود کو محفوظ کر لینے کے بعد تمام صفات حسنہ اور اچھے اخلاق اور فضائل کا زیور پہن لینا اور صفاتِ حسنہ سے متصف ہو جانا یہ توحید عملی حق نفس سے تعلق رکھنے والی ہے اور ایک موحد کی اس سے یہ غرض ہوتی ہے