خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 686 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 686

خطبات ناصر جلد دوم ۶۸۶ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء طرح وہ چاہیں انہیں خرچ کرنے کا حق ہے تو یہ غلط ہے وہ کہتے تو یہ ہیں اَنْطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ اطعمه کہ جسے اللہ چاہتا خود ہی دے دیتا ہمارے ذریعہ اس نے کیوں دلوانا تھا وہ تو سارے خزانوں کا مالک ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کو تو یہ رزق اس لئے دیا گیا ہے کہ تمہیں ابتلا میں ڈالا جائے یہ دنیا تو ابتلا اور امتحان کی دنیا ہے تمہیں یہ رزق میں نے اس لئے دیا ہے کہ میں تمہیں خادم بنانا چاہتا تھا میں نے تمہیں خادم بنایا ہے اور تمہیں کہا ہے کہ تم لاکھوں روپے کماؤ تا کہ ان یتامیٰ اور مساکین کی لاکھوں کی ضرورت پوری کی جائے جن کو ہم نے براہِ راست نہیں دیا ان أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَالِ مبین تمہیں یہ باتیں کھلی کھلی گمراہی اور حقیقت سے ناواقفیت اور اللہ تعالیٰ کی صفات سے جہالت کا نتیجہ ہیں۔تو اس قسم کے میلان اور رجحان کو اسلام کا اقتصادی نظام تسلیم نہیں کرتا۔دنیا میں مختلف فلسفیانہ نظریے یا سکولز آف تھاٹ (Schools of Thought) ہیں اور انہوں نے کچھ حقوق مقرر کئے ہیں۔لیکن اسلام کسی انسان کے قائم کردہ حقوق کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔اسلام ہر دائرہ میں ( اقتصادی دائرہ میں بھی صرف اس حق کو تسلیم کرتا ہے جس کو خود اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اور جس حق کو اللہ نے قائم نہیں کیا اسے اسلام حق تسلیم نہیں کرتا۔عبادت کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ اطاعت صرف اللہ کی کی جائے۔یعنی شعار عبودیت میں غیر اللہ کو شریک نہ بنایا جائے اس سے جیسا کہ میں نے بتایا تھا انسان غیر اللہ کی غلامی سے یکسر آزاد ہو جاتا ہے۔اللہ کے غیر کی غلامی کی جو مختلف شکلیں ہمیں نظر آتی ہیں ان میں سے ایک اقتصادی غلامی بھی ہے۔ایک کتاب ' Waters Flowing East Word‘ اس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ بعض منصو بے دنیا میں اس لئے بھی بنائے گئے ہیں کہ تمام انسانوں کو اقتصادی زنجیروں میں جکڑ کر غلام بنا دیا جائے اور اس کے لئے ایک طریق یہ اختیار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امدادی قرضے دیئے جائیں۔اس کتاب میں اس پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے کہ ان قرضوں سے کیا کیا خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور کس قسم کی زنجیریں انسان یا قوموں کے گرد لپٹ جاتی ہیں۔اس کی تفصیل شاید میں کسی اور موقع پر بیان کروں اس وقت میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تقاضا بھی اسلام کے اقتصادی نظام کو پورا کرنا چاہیے تھا اور یہ اقتصادی نظام اسے پورا