خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 673
خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۳ خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۶۹ء ان کا خرچ بھی صحیح ہے لیکن ان کو ساٹھ اکائیاں ملتی ہیں یعنی اس کی ضرورت میں سے ۴۰ فیصد کم رہ جاتا ہے تو ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ مسلمان کو کہتا ہے کہ میں مالک ہونے کی حیثیت سے تمہیں کہتا ہوں کہ جو اس کے لئے میں نے چیز پیدا کی تھی اس میں سے اسے صرف ۶۰ فیصد ملا ہے اسے ۴۰ فیصد ابھی نہیں ملا یہ ۴۰ فیصد ا سے مہیا کرو جو تمہیں امانتا مل چکا ہے۔پس اسلام کا اقتصادی نظام سرمایہ دارانہ نظام اور اشترا کی نظام سے بالکل مختلف ہو گیا۔ایک تو مثلاً یہی کہ جو نظام رب العلمین کی صفت کے جلوے سمیٹے ہوئے ہے سرمایہ داری کا نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ سرمایہ داری کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جن اقوام کو موقع ملا انہوں نے دوسری اقوام کو لوٹا۔خود امیر بنے دوسروں کے حقوق غصب کئے اور جو اپنے حقوق نہیں تھے وہ سمجھے کہ یہ ہمارے حقوق ہیں اور وہ پورے ہونے چاہئیں افراد کو غریب نہیں کیا قوموں کو غریب کر دیا دوسری طرف اشترا کی نظام ہے اس میں سرمایہ داری میں بھی بعض خوبیاں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بنیادی حکم دیا ہے کہ جس کی برائیاں زیادہ ہوں وہ ترک کر دینے کے قابل ہے ) بھی کچھ خوبیاں ہیں لیکن اسلام کے اقتصادی نظام سے یہ اشترا کی نظام بھی مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ اسلام تو ہے ہی خوبی ہی خوبی، خیر ہی خیر اور محسن ہی حسن اسلام کے اقتصادی نظام پر کوئی بدنما داغ نہیں ہے کیونکہ یہ ہر انسان کے حقوق (بشمولیت اقتصادی حقوق ) کی حفاظت کرنے والا ہے لیکن جب روس میں اشتراکی نظام قائم ہوا تو بڑے بڑے سرمایہ داروں کے حقوق نظر انداز کر دیئے گئے بجائے اس کے کہ اس ملک کے دوسرے شہری افراد جن کے پچاس فیصد حقوق پورے ہو رہے تھے اور پچاس فیصدی حقوق تلف ہو رہے تھے اور یہ بڑے سرمایہ دار جن کے پاس ان کے اصل حقوق سے زیادہ مال موجود تھا ان سے کہا جاتا کہ یہ زائد مال تمہارا نہیں ہے یہ لا ؤ اور غریبوں کے حقوق کو پورا کرو۔ان سے اموال ہی نہیں چھینے بلکہ زندگیاں بھی چھین لیں۔اللہ تعالیٰ نے جو قوت اور استعداد ان کو دی تھی وہ بھی ہلاک کر دی گئی۔خدا کی تقدیر ہی چلتی ہے لیکن یہ کبھی کسی شکل میں سامنے آتی ہے اور کبھی کسی شکل میں کبھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کے حسن کے اظہار کے لئے اپنی تقدیر کو دنیا میں ظاہر کرتا ہے کبھی اپنے