خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 665
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۶۹ ء کہ ہر قوت اور استعداد کی نشوونما کے سامان پیدا کئے ہر قوت کے لئے وہ چیز پیدا کر دی کہ جو اسے میٹر آجائے اور وہ قوت اپنے کمال کو پہنچ جائے اس کا مطلب یہ ہوا کہ چونکہ ساری دنیا انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔دنیا میں جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے وہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ ہر فرد بشر کی تمام قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کو اس کے کمال تک پہنچایا جا سکے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو اس کی قوت یا استعداد کو نشوونما تک پہنچانے کے سامان میسر نہیں تو وہ شخص مظلوم ہے اور اس کا حق مارا گیا ہے کیونکہ اللہ رب العلمین نے جو سامان اس کے لئے پیدا کئے تھے۔جو اسباب اس کی قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشود نما اور ان کے کمال تک پہنچانے کے لئے پیدا کئے تھے وہ اسے حاصل نہیں ہوئے۔اسلام کا اقتصادی نظام ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر فرد بشر کو ہر وہ چیز میسر آجاتی ہے جو اس کی قوتوں اور استعدادوں کے صحیح نشو ونما اور کمال تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے اور اس طرح اس کا حق مارا نہیں جاتا اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ قوتوں کی غلط نشو و نما کے لئے جن چیزوں کا انسانی ذہن یا اس کا معاشرہ مطالبہ کرتا ہے اسلام کے اقتصادی نظام میں وہ اسے میسر نہیں آئے گی کیونکہ وہ چیز اس کے لئے پیدا ہی نہیں کی گئی وہ اس کا حق ہی نہیں بنتا اس غرض کے لئے وہ قوت یا وہ چیز پیدا نہیں کی گئی ہے لیکن اس کی تفصیل میں میں بعد میں جاؤں گا۔غرض اسلام کا اقتصادی نظام یہ نہیں کہتا کہ ضروریات زندگی کے لئے کم سے کم جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ہمیں مہیا ہونی چاہئیں۔اسلام کا اقتصادی نظام یہ کہتا ہے کہ ہر فرد کی قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما اور کمال تک پہنچانے کے لئے زیادہ سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسے میسر ہونی چاہیے۔سرمایہ دارانہ اور اشتراکیت والے نظام کے اندر اس چیز کا عام طور پر خیال نہیں رکھا گیا لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ ان قوتوں اور استعدادوں کی حفاظت کرنے اور انحطاط سے بچانے کے سامان بھی ہم نے پیدا کئے ہیں اس لئے ہر وہ چیز جو اس ارتقا کے راستے میں روک ہے اس نشو و نما کے راستے میں روک بنتی ہے اسے دور کرنے کا انتظام بھی اسلام کے پیش کردہ اقتصادی نظام میں موجود ہے مثلاً بعض دفعہ بیماری روک بن جاتی ہے۔اگر چہ آدمی سنت اللہ کو نظر انداز