خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 622 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 622

خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۲ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء کئے ہیں کہ یہاں یہ حکم ہے کہ مجھ سے دعا کرو تو یہاں یہ فریضہ ہے اور آپ نے اس کی بڑی لطیف تفسیر بیان کی ہے۔یہاں دعا کو اس دعا کے معنوں میں استعمال کیا ہے جو فرض ہے اور پھر آگے اس کی قبولیت کا وعدہ دیا گیا ہے۔یہاں اور سورہ بقرہ کے شروع میں اور بعض دوسری جگہوں پر صلوۃ کا لفظ اس دعا کے معنوں میں آیا ہے جو فریضہ ہے۔ہر ایک شخص کے لئے کرنا ضروری ورنہ عبادت اور اس کے لوازمات پورے نہیں ہوتے اور انسان سچے طور پر اپنے رب کی عبادت نہیں کر سکتا۔اور اس دعا کی ماہیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان کی ہے کہ چونکہ بندہ اپنے رب کی عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے انسانی فطرت میں یہ چیز پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف جھکے۔لیکن اس کی فطرت میں کمزوری بھی ہے۔پس اس دعا کی ماہیت یہ ہے کہ پہلے رحمان کی رحمانیت جوش میں آتی ہے اور اپنے بندہ کو وہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔پھر اس کو تھوڑے سے قُرب کے حاصل ہو جانے کے بعد کچھ ہوش آ جاتا ہے اور اس کی فطرت بیدار ہوتی ہے اور جاگ اٹھتی ہے۔پھر بندے کی فطرت میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ میں خدا کا قرب حاصل کروں اور پھر بندہ اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔یعنی یہ دو کششیں ہیں، ایک اللہ کی کشش جو اس کی رحمت کے جوش سے ظاہر ہوتی ہے۔اور ایک بندے کی کشش جو اس کی فطرت کے بیدار ہونے کے بعد یا اس کی روحانی بلوغت کے بعد ظاہر ہوتی ہے اور یہ دو کششیں مل کر بندے کو اللہ تعالیٰ کا ایک خاص مقام قرب عطا کرتی ہیں۔یہ خاص مقام قرب صرف انسان کو عطا ہوتا ہے دوسری چیزوں کو عطا نہیں ہوتا۔جیسا کہ میں نے ایک خطبہ میں بتایا تھا کہ قرب کی کئی قسمیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کا قرب تو ہر شے کو حاصل ہے۔لیکن ایک قرب عام ہے ایک قرب خاص ہے۔بندے کو قرب خاص عطا ہوتا ہے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں کہ ” خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل اُمید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے ( پیچھے بندے کا ذکر ہے کہ ایسا انسان جو ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی رحمانیت جوش میں آتی ہے تو اس کی فطرت بیدار ہوتی ہے تو یہ حالت پیدا ہو جاتی ہے ) اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے