خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 610
خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۰ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء میرے اس حکم کے ماتحت اور میری اس ہدایت کے مطابق ہونے چاہئیں کہ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء ولا شكورا (الدهر : ۱۰) ہم تم سے کسی جزا کی خواہش نہیں رکھتے نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمیں بدلہ دو یہاں تک کہ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو۔بدلہ لینے کا تو سوال ہی نہیں۔پس جہاں تک جزا اور مکافات اور بدلہ کا سوال ہے وہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين خالصہ اللہ کے لئے ہونا چاہیے۔میں نے بتایا ہے کہ دین کے اس معنی کے لحاظ سے دو پہلو ہیں۔(۱) بدلہ لینا (۲) بدلہ دینا۔بدلہ لینے کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارا ہر حسن سلوک اس معنی میں کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے احسان کا لفظ استعمال کیا ہے ایسا ہونا چاہیے کہ تمہارے دل میں نہ صرف یہ خیال پیدا نہ ہو کہ یہ شخص اس کا بدلہ دے گا۔احسان کے مقابلہ میں احسان کرے گا بلکہ تمہیں یہ خیال بھی پیدا نہ ہو کہ کم از کم اسے میرا شکر تو ادا کرنا چاہیے بعض لوگ کسی کی تھوڑی سی خدمت کر کے کہہ دیتے ہیں بڑا ناشکرا ہے یہ شخص۔اس نے ہمارا شکر بھی ادا نہیں کیا۔خدا تعالیٰ تمہیں کہتا ہے کہ تم اس کی بھی توقع نہ رکھو کہ وہ تمہارا شکر ادا کرے گا۔پس جس نے خدا کی رضا کے حصول کے لئے بنی نوع انسان کی خدمت کی ہے جس نے دنیا کی تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے خود مصائب برداشت کئے ہیں اس کو خدا کا یہ حکم ہے کہ تم نے جزا لینے کا خیال بھی دل میں نہیں لانا۔تم نے یہ بھی نہیں سوچنا کہ اس شخص کو تمہارا شکر گزار ہونا چاہیے۔یہ اسلام کی نہایت عجیب تعلیم ہے اور اسے قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔میں اس وقت صرف یہ بات آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم بدلہ لینے کے میدان میں یہ خیال کرو گے کہ جس شخص سے تم نے محسن سلوک کیا جس کی تم نے خدمت کی اور جس کی تکلیف کو دور کرنے کی تم نے کوشش کی اسے تمہیں اس احسان کا کچھ بدلہ دینا چاہیے۔اسے کم از کم تمہارا شکر ادا کرنا چاہیے تو تم نے خدا تعالیٰ کی پرستش کا حق ادا نہیں کیا۔اگر تم اللہ تعالیٰ کی سچی اور حقیقی عبادت کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ راہ ہے کہ تم بنی نوع انسان کی خدمت کرو۔تم ان سے حسن سلوک کرو۔تم اپنے بھائیوں کے لئے مصائب برداشت کرو۔تکلیفیں اور دکھ سہو اور ہر چیز کو بھول جاؤ تمہیں یہ خیال ہی نہ رہے کہ تم نے کچھ کیا ہے کیونکہ تم نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہے۔اگر واقعہ