خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 591 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 591

خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۱ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء کرے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی تدبیر کسی دوسرے انسان کے خلاف نہیں ہوگی۔کوئی تدبیر کسی انسان کو بے عزت کرنے کے لئے نہیں ہوگی۔کوئی تدبیر کسی انسان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے نہیں ہوگی کہ جو حفاظت اللہ نے اسے دی ہے۔اس حفاظت کو وہ توڑنے والی ہو۔میں اس وقت زیادہ تفصیل میں نہیں جا سکتا۔سینکڑوں باتیں ہیں جن کا قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے اُسوہ سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے گروہ کی کوئی تدبیر ایسی نہیں ہوتی جس کے متعلق ہم کہہ سکیں کہ وہ معاشرے میں فساد پیدا کرنے والی ، حقوق تلف کرنے والی ، انتہام لگانے والی ، جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی وغیرہ ہوا ایسی کوئی تدبیر نہیں ہوگی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تدبیر کرو مگر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ہوکر کرو۔پھر کوئی تدبیر ایسی نہیں ہوگی جس میں شرک کی ملاوٹ ہو۔پھر جس نے اپنی تدبیر خدا کی رضا کے لئے کی وہ اس تدبیر پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔اس کی تدبیر اگر نا کام ہو جائے تو وہ خدا سے کوئی شکوہ نہیں کر سکتا۔اگر اس کی تدبیر کے نتیجہ میں کسی کو دکھ پہنچ جائے تو اس سے وہ خوش نہیں ہوسکتا۔بعض دفعہ انسان کا ارادہ کسی کو دکھ پہنچانے کا نہیں ہوتا لیکن نا سمجھی کی وجہ سے یالا علمی کی وجہ سے کوئی ایسی تدبیر کرتا ہے جس سے کسی اور کو دکھ پہنچ جاتا ہے۔ایسے وقت میں یہ شخص خوش نہیں ہوتا بلکہ انتہائی طور پر رنجیدہ ہوتا ہے۔دلی جذبات کے ساتھ اس سے معذرت کرتا اور اس سے معافی مانگتا ہے کہ میں نے تو کبھی ارادہ نہیں کیا تھا کہ آپ کو تکلیف پہنچے۔اپنی سوچ کے مطابق ایک جائز تدبیر کی تھی مجھے افسوس ہے کہ آپ کو نقصان پہنچ گیا۔ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر تدابیر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کی ہدایت کے ماتحت ہوں تو ہر شخص دوسرے کا خادم بن جاتا ہے کسی شخص کو دوسرے سے خطرہ نہیں رہتا۔امن کا ایک ایسا حسین معاشرہ قائم ہو جاتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ اتنی اعلیٰ اور احسان کرنے والی تعلیم دی ہے کہ صرف میری عبادت کرو۔عبادت کے حقوق ادا کرو۔ان میں سے ایک یہ حق ہے کہ تمہاری کوئی تدبیر ایسی نہ ہو جس میں اللہ کے لئے خلوص نیت نہ ہو۔دین کے نویں معنی حساب یا محاسبہ کے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی عبادت کا قیام