خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 592 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 592

خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۲ خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء محاسبہ کا تقاضا کرتا ہے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے مطابق محاسبہ کے طریق کو اختیار کئے بغیر انسان حقیقی عبادت کر نہیں سکتے۔ایک تو محاسبہ نفس ہے انسان اپنے نفس کا حساب لیتا ہے اور اسے لینا چاہیے اور محاسبہ کے نتیجہ میں اسے علی وجہ البصیرت علم حاصل ہوتا ہے یعنی اس کا علم ظرفی نہیں ہوتا بلکہ یقینی ہوتا ہے ہم دن رات اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہیں رات کیسے گزری دن کیسے گزرا۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین میں جن دیگر تقاضوں کا ذکر ہے وہ ہم نے پورے کئے ہیں یا نہیں۔اس طرح آدمی سوچتا ہے تو اس کی غلطیاں سامنے آتی ہیں۔پھر وہ ان کو دور کرتا ہے کسی کو تکلیف پہنچائی ہوتی ہے تو اس کا تدارک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہو تو خلوص نیت کے ساتھ تمہیں محاسبہ کرنا پڑے گا۔پھر قرآن کریم کے دوسرے مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے اُسوہ سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اس حساب یا اس محاسبہ کے کیا کیا تقاضے ہیں اس کی آگے بڑی لمبی تفصیل آجاتی ہے۔میں نے کہا ہے کہ اس ذمہ داری کے نتیجہ میں یقینی علم حاصل کرنا پڑتا ہے اور یقینی علم حاصل کرنے سے ظن اور محض ڈھکوسلہ باقی نہیں رہتا۔ہم اس کے لئے جو موٹا استدلال کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں وہ دل کے پوشیدہ خیالات سے بھی واقف ہے۔انسان خود اپنے اعمال اور خیالات کو بھول جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بھولتا۔وہ اس کے سامنے ہوتے ہیں انسان اپنے نفس کا اپنے خیالات کا اپنے فکر اور تدبیر کا بسا اوقات یقینی علم نہیں رکھتا۔حتی کہ چھوٹے چھوٹے اعمال بھی حافظہ سے نکل جاتے ہیں۔مثلاً آپ میں سے کسی سے پوچھا جائے کہ آج سے دس دن پہلے دو پہر کے وقت تم نے کیا کھایا تھا تو میرے خیال میں کوئی بھی صحیح جواب نہیں دے سکے گا۔غرض ہم اپنے عمل بھی یاد نہیں رکھتے ہمارے دل میں جو خیالات آتے ہیں، وساوس پیدا ہوتے ہیں یا ہوائے نفس جو ذلیل خواہشات پیدا کرتا ہے وہ ہمیں بھول جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کو تو نہیں بھولتے کیونکہ وہ وہ ہستی ہے جس کا علم کامل ہے، جس کے علم نے ہر شئی کا احاطہ کیا ہوا ہے اور اس علم کامل کی بنا پر وہ محاسبہ کرتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان نے محاسبہ کرنا ہو تو جہاں تک اس کے بس میں ہو وہ یقینی علم پر قائم ہو