خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 589
خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۹ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء جائے گی۔روشنی بھی اسی طرح آئے گی لیکن یہ تدبیر عبادت بن جائے گی کیونکہ تم نے نیت یہ کی کہ اذان کی آواز سننے کے لئے میں نے ایک راستہ رکھا ہے۔انسان کے محبت کے تعلقات طبعی طور پر بعض دوسرے انسانوں سے ہوتے ہیں ، بیوی سے، بچوں سے ، بھائی بہنوں سے ، بڑے گہرے دوستوں سے محبت اور اخوت کا تعلق ہوتا ہے۔یہ تعلق سارے انسان ہی ایک دوسرے سے قائم کرتے ہیں لیکن جو سچا اور حقیقی عبد نہیں، حقیقی مسلمان نہیں وہ ان تعلقات کو محض ایک دنیوی تدبیر سمجھتا ہے۔بیوی کو خوش کرنے کے لئے وہ بہت سی باتیں کرتا ہے۔وہ چھوٹی عمر کے بچوں کو خوش کرنے ، ان کو بہلانے اور انہیں کھیل کود میں مصروف رکھنے کے لئے بہت سی باتیں کرتا ہے۔ایک بادشاہ کا قصہ مشہور ہے ایک دن وزیر اس کے کمرہ میں آیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بادشاہ کا بیٹا اس کی پیٹھ پر سوار ہے اور وہ گھوڑا بنا ہوا ہے۔( ہمارے ملک میں بھی بچوں میں یہ رواج ہے کہ ایک گھوڑا بن جاتا ہے اور دوسرا سوار ) وہ انسان تھا بادشاہ ہوا تو کیا۔اس کے دل میں وہی جذبات تھے وہ اپنے بچے کوکھیل میں مصروف رکھنا چاہتا تھا۔غرض اپنے بچے کے لئے گھوڑا بننا عبادت بھی ہو سکتی ہے اگر نیت یہ ہو کہ میں اپنی اولاد کے دل میں ان کی چھوٹی عمر میں ہی یہ بات گاڑ دینا چاہتا ہوں کہ میرے اندر کوئی خوبی نہیں۔میں خدا کا ایک عاجز انسان ہوں۔کسی برتری کا احساس اس کے اندر نہ ہو۔اس نیت کے ساتھ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہو۔تو وہ عبادت بن جائے گی۔گھوڑا بننا بھی خدا تعالیٰ کو بڑا پیارا لگے گا لیکن خلوص نیت ہونا چاہیے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بعض احادیث میں آتا ہے کہ جب آپ کے بچے آپ کے پاس آتے تھے تو آپ کھڑے ہو جاتے تھے اور کھڑے ہو کر ملتے تھے۔اب ایک ایسا وجود (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہ ساری دنیا اس کے دروازے پر کھڑے رہنے میں فخر محسوس کرے لیکن اس کی بےنفسی خدا کے لئے تھی اور یہ سبق سکھانے کے لئے تھی کہ اگر میں تمہیں کھڑے ہو کر ملتا ہوں تو پھر وہ کون سی ہستی ہے کہ اس کے پاس کوئی ملنے کے لئے آئے اور وہ اس سے کھڑے ہو کر نہ ملے تو عاجزانہ راہوں کی نشاندہی کے لئے جو بزرگ اس قسم کے کام کرتے ہیں وہ محض دنیوی