خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 580
خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۰ خطبه جمعه ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ ء ہمارے ماحول میں ہمارے نفسوں سمیت خدا کے حکم اور امر کے خلاف کوئی نہ جائے اور اس نے ہماری روحانی اور جسمانی ترقیات کے لئے جو پابندیاں ہم پر لگائی ہیں ان کا احترام کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلہ میں نفسانی خواہشات اور ارادوں کو کچھ نہ سمجھا جائے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کوئی دوسری ایجنسی، کوئی دوسرا گروہ یا جماعت اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی میں اپنے اثر ورسوخ کے نتیجہ میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم عبادت کے اس تقاضا کو پورا کرو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجاؤ گے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے فرما يا وَاصْبِرُ لِحُكمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ( الطور :۴۹) جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی پر ثبات قدم دکھاتا ہے اور استقلال اور استقامت کے ساتھ ان پر قائم ہو جاتا ہے اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کا خیال نہیں رکھتا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں آ سکتا۔چھٹا تقاضا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہم سے کرتی ہے یہ ہے کہ انسان اپنی اس زندگی میں بہت سی عادتیں پیدا کر لیتا ہے وہ عادتیں پختہ ہو جاتی ہیں۔ان عادات کے متعلق بھی ہر وقت ہوشیار اور چوکنا رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الدِّينُ کے ایک معنی عادت کے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے اندر یا ان لوگوں میں جن کے تم راعی مقرر کئے گئے ہو کوئی ایسی عادت نہیں پیدا ہونی چاہیے جو عبادت میں اخلاص کے سوا کچھ اور ہو یعنی جو اللہ تعالیٰ سے تعلق کو قائم کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہو۔ماحول کے بداثرات عادات بد پیدا کر دیتے ہیں اور ان کے بہت بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔تمہاری عادات بھی خالصہ اللہ کے لئے اور اس کی رضا کی تلاش میں ہونی چاہئیں۔وہ اس غرض سے ہونی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں حاصل ہو۔عادات کا تعلق عبادات سے بڑا گہرا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت سی جگہ اس پر روشنی ڈالی ہے اور عبادات میں ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے مخلص بندے ترقی بھی کرتے رہتے ہیں یعنی وہ اپنی قربانی کو بڑھاتے رہتے ہیں تا ان کو دو ہرا ثواب مل جائے۔