خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 47

خطبات ناصر جلد دوم ۴۷ خطبہ جمعہ ۱۶ رفروری ۱۹۶۸ء قربانیوں میں بتدریج اضافہ کرتے چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی کامل نیکی کو حاصل کر سکو گے اگر ایسا نہیں کرو گے تو نیکی کو تو حاصل کر لو گے۔اللہ تعالیٰ ثواب تو تمہیں دے گا مگر یہ ثواب نچلے درجہ کا ہوگا کامل نیکی نہیں کہلائے گا۔پس یہاں یہ فرمایا ہے کہ جس چیز سے تم محبت کرتے ہو اور جس کے چھوڑنے اور قربان کرنے پر تم تکلیف محسوس کرتے ہو اس کو خرچ کرنے کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک شخص جو سالہا سال سے اپنی آمدنی کا سولہواں حصہ جماعت کے کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا چلا آرہا ہے یہ خرچ اس کے بجٹ کا ایک حصہ بن گیا ہے اور یہ ایسی رقم نہیں رہی کہ جس کے خرچ پر اس کو یہ احساس ہوا کہ اگر میں یہ رقم خرچ نہ کرتا تو فلاں فلاں چیز خرید سکتا دنیوی فائدہ حاصل کرتا۔تومبا تُحِبُّونَ میں یہ اشارہ کیا کہ اس انفاق میں ترقی کرتے چلے جاؤ جب سولہویں حصہ کی عادت پڑ جائے تو پھر (اللہ تعالیٰ خود امامِ وقت کو سکھاتا ہے ) تحریک جدید کا مطالبہ ہو جائے گا تاکہ تمہیں وہ مال جو تم خرچ کرو محبوب مال معلوم ہو اس کی عادت نہ پڑ چکی ہو بلکہ خرچ کرتے ہوئے تمہیں دکھ کا احساس ہو تم کہو کہ یہ مال میں خرچ کر رہا ہوں لیکن اس کے نتیجہ میں میری فلاں ضرورت پوری نہیں ہوگی اور یہ سوچو کہ فلاں ضرورت کیا اگر کوئی بھی ضرورت پوری نہ ہو اور میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے تو میں خرچ کرتا چلا جاؤں گا اس وقت تمہارا خرچ مِمَّا تُحِبُّونَ میں سے ہو گا۔پھر جب اس کی بھی عادت پڑ جائے گی وقف جدید کی تحریک شروع کر دی جائے گی جب اس کی عادت پڑ جائے گی فضل عمر فاؤنڈیشن سامنے آجائے گی اور اگر یہ بھی نہ ہو تو وصیت کی طرف انسان کی توجہ جائے گی کہ سولہواں حصہ تو میں دیتا چلا آیا ہوں اور سولہواں حصہ دینے سے مجھے یہ احساس نہیں باقی رہا کہ میں نے اپنے محبوب مال میں سے کچھ دیا ہے۔کیونکہ اس انفاق کی تو مجھے عادت پڑ گئی ہے اس واسطے آؤ اب وصیت کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خوشنودی کو اس کے فضل کی جنتوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کریں۔پھر وصیت میں تو سات درجے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھے ہیں۔جب دسویں حصے کی عادت پڑ جائے تو نواں حصہ دینا شروع کر دو جب نواں حصہ دینے کی عادت پڑ