خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 572 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 572

خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۲ خطبہ جمعہ اارا پریل ۱۹۶۹ء سے اپنا تعلق توڑ دیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم کریں اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے وارث بنیں۔یعنی عذاب کا مقصد ہی رحمت کے حصول کا امکان پیدا کرنا ہوتا ہے۔پس غصے سے کسی کو سز انہیں دینی چاہیے بعض دفعہ یہاں سکول ماسٹروں کو بھی بڑی سختی سے سمجھانا پڑتا ہے کہ بچوں کو سزا دیتے وقت غصے کا اظہار نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے رب کی صفت کے مطابق اصلاح کا خیال رکھا جائے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص نے تم پر بڑا ہی ظلم کیا ہو خواہ ظلم کی انتہا ہی کیوں نہ ہوگئی ہو اگر تم یہ دیکھو کہ معاف کرنے میں اس کی اصلاح ہے تو تم اسے معاف کر دو۔اپنے سارے احساسات اور جذبات کو خدا کے لئے قربان کر کے اس کی صفات کا رنگ اپنے پر چڑھاؤ۔پس یہ ایک وسیع مضمون ہے جو ہماری کتب میں بیان ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جب میں نے یہ کہا کہ میں نے انسان کو اپنی عبادت اور عبودیت کے لئے پیدا کیا ہے تو میرا یہ مطلب بھی ہے کہ انسان میری صفات کا رنگ اپنی صفات پر چڑھائے اور میری نقل کرے غیر اللہ کی نقل نہ کرے میری نقل میں اپنی بھلائی سمجھے اور پائے، میرے غیر کی نقل میں کوئی بھلائی نہ دیکھے اور نہ پائے ، نہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اب دیکھو! اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دنیا میں کتنا فساد عظیم پیدا ہو گیا۔اس وقت دنیا میں بعض ایسی قومیں پائی جاتی ہیں جو دنیوی لحاظ سے ترقی یافتہ ہیں۔انہوں نے اپنی ساری کوششیں دنیا کے لئے وقف کر دیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اس دنیا سے انہیں حصہ دے دیا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ کر دی کہ اُخروی زندگی میں تمہیں کوئی انعام نہیں ملے گا۔ان تمام ترقیات کے ساتھ ان کے اخلاق کے بعض پہلو نہایت بھیانک ہیں بہت سی دوسری قو میں جو ترقی یافتہ نہیں وہ بسا اوقات ان دنیوی لحاظ سے ترقی یافتہ اقوام کی خوبیوں کی طرف اتنی توجہ نہیں دیتیں جتنی ان کی بداخلاقیوں بداعمالیوں اور بد عادات کی نقل کرنے کی طرف توجہ دیتی ہیں حالانکہ دنیا میں ہمیں کوئی ایسا وجود نظر نہیں آتا جس کے متعلق یہ دعوی کیا جا سکے کہ اگر ہم گلی طور پر اس کی نقل کریں گے اور اس کی عادات کو اپنی عادت بنانے کی کوشش کریں گے اس کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی سعی