خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 573
خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۳ خطبہ جمعہ ۱۱ را پریل ۱۹۶۹ء کریں گے اس کے اخلاق کا اپنے اخلاق پر رنگ چڑھائیں گے تو ہر پہلو سے ہم دین و دنیا کی حسنات حاصل کریں گے۔سوائے اس ہستی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے جو انسانوں میں پیدا تو ہوئی لیکن جس کا اپنا وجود کلیہ اور کاملتہ فنا ہو گیا اور جس پر ہر زاویہ نگاہ سے ہمیں خدا کا رنگ ہی نظر آیا اور جس کے ہر مسام سے ہمیں اللہ تعالیٰ کے ٹور کی کرنیں ہی پھوٹتی ہوئی نظر آئیں۔آپ کی نقل کرنا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو اپنا نا دراصل اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنانا ہے کیونکہ آپ کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا مظاہرہ کرنے میں گزری۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ایک بڑا وسیع مضمون ہے قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کی جن صفات کا ذکر ہوا ہے ان کو سامنے رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ آپ کی ذات بہترین اُسوہ ہے تو جب ہمیں یہ کہا گیا کہ اگر میرا پیار حاصل کرنا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرو تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ اگر میرا پیار حاصل کرنا ہے تو میرے اخلاق کا رنگ اپنے اندر پیدا کرو کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وجود سے فانی اور خدا میں ایسے گم تھے کہ آپ کی زندگی میں انسان کو صرف اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے جلوے نظر آتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب یہ حکم دیا تو ساتھ اس بات کا بھی اعلان کر دیا کہ میں نے انسان کو یہ طاقت اور استعداد دی ہے کہ وہ میرے اخلاق اپنے نفس میں پیدا کر سکے کیونکہ اگر اُس کو یہ طاقت اور استعداد بخشی نہ جاتی تو اس سے مطالبہ بھی نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے انسان! میں نے تجھے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس عبادت کے سب تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے جن قوتوں اور استعدادوں کی ضرورتیں تھیں وہ میں نے تجھے عطا کیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور میں تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ عبادت کا حق پورا نہیں ہوگا جب تک مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ ہو کر میری عبادت نہیں کرو گے اور دین کے ایک معنی ورع کے ہیں کہ سب نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے کی جانی چاہئیں۔شیطان بہت سے نیک اعمال کرنے والوں کے دلوں میں بھی ریا وغیرہ بہت ساری بُری باتیں پیدا کر دیتا ہے (اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ) تو فرمایا کہ تمہیں میری راہ میں نیک اعمال بجالاتے