خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 549 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 549

خطبات ناصر جلد دوم ۵۴۹ خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۶۹ء چاہتا ہے کیونکہ جو شخص غیر کی جان یا اس کے مال یا اس کی عزت کا دشمن ہوا اس کے دل میں ایک بت ہے وہ خدائے واحد و یگانہ کی پرستش نہیں کر رہا وہ خدا میں ہو کر اپنے حقوق کے حصول کی کوشش نہیں کر رہا وہ اپنے نفس کو اتنا مضبوط اور طاقت ور سمجھتا ہے کہ کہتا ہے کہ جس بات کو میں صحیح سمجھتا ہوں وہ ہونی چاہیے نہیں تو میں دوسرے کی گردن کاٹ دوں گا لیکن وہ شخص جو بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلہ کی ہدایت کا قائل ہو اور اس پر عمل پیرا ہو وہ اپنے مخالف کے عقائد اور اس کے نظریات کو سن کر اس سے دشمنی کی بجائے محبت کا سلوک کرتا ہے اور اس کو کاٹنے کی بجائے اس کی مددکو آتا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکنے سے اس کی مدد کر۔پھر دشمنی کہاں رہی پھر تو محبت قائم ہوگئی۔غرض یہ تین موٹے اثر ہیں جو حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں حقوق العباد، باہمی تعلقات اور نظامِ حیات پر پڑتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم صحیح معنی میں مسلم بن جاؤ اور اپنے پر ایک موت وار دکر کے اپنی ساری خوشیوں کو خدا کی خوشی اور رضا پر قربان کر دو تو اس کے دو نتیجے نکلیں گے، ایک تو حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے اجر پاؤ گے دیکھو دنیا میں کوئی ایسا معاشرہ یا کوئی ایسا نظریہ یا کوئی ایسی جد و جہد نہیں جس کا یہ دعویٰ ہو کہ ہم غریب کو اس کا حق دلاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ سے ہمیں اجر ملے گا۔کمیونزم کیپیٹل ازم یا دوسرے جو ازم ہیں ان میں یا تو خدا کا تصور نہیں یا اللہ تعالی کی طرف سے جزا ملنے کا تصور نہیں۔کیپیٹیلسٹ اقوام اگر چہ زبانی طور پر اپنے ایک خود تراشیدہ معبود کو مانتی ہیں لیکن وہ یہ دعوی نہیں کرتیں کہ اگر ہم نے اقتصادی مساوات قائم کی تو اس کے بدلہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا اپنے محبوب کی طرف سے اجر ملے گا لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے نتیجہ میں سب سے بڑا فائدہ تمہیں یہ ہوگا کہ اس دنیا میں بھی تمہیں ایک جنت مل جائے گی اور اُخروی دنیا کے جنت کے بھی تم وارث بنو گے (فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ ) پھر جو جنت اس دنیا میں ملے گی اس میں دو خصوصیتیں ہوں گی ایک تو خوف نہیں ہو گا دوسرے حزن نہیں ہوگا۔جب ہر شخص دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینے کے لئے تیار ہو گا تو کسی کو یہ ڈر تو نہیں ہوگا کہ