خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 539
خطبات ناصر جلد دوم ۵۳۹ خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۶۹ء کے صبر اور استقامت اور توکل اور خدا تعالیٰ کی بشارتوں پر کامل یقین کا ایک حسین نظارہ نظر آتا ہے۔مخالف نے ہر نیا منصوبہ جو آپ کے خلاف باندھا وہ ظلم کا ایک نیا دور بھی تھا اور ماضی کے ظلم کے ادوار کی ناکامی کا اعلان بھی ہوتا تھا کہ ہم نے اس قسم کے ظلم کئے ، نا کام ہوئے اب ظلم اور Oppression کے نئے طریقے نکالنے چاہئیں پھر وہ نیا دور ختم ہو جاتا پھر ایک نیا منصوبہ بندھتا۔بہر حال مکی زندگی ہمارے سامنے ان حالات کے لحاظ سے صبر اور دعا کے بہترین نمونے تفصیل پیش کرتی ہے۔علماء جماعت کو چاہیے کہ مکی زندگی کے حالات کو جماعت کے سامنے زیادہ تف سے اور بار بار رکھیں۔ہمارا یہ زمانہ اسلام کے لئے جد و جہد اور اسلام کی خاطر قربانیاں دینے کا مکی زندگی سے مشابہ ہے۔تیرہ سالہ ظلم سہنے کے زمانہ میں ایک موقع پر بھی آپ یا آپ کے صحابہ نے جوابی کارروائی نہیں کی اور ان سختیوں کو بشاشت کے ساتھ رُجُوعَ إِلَى اللهِ اور انا بَتْ إِلَى اللَّهِ کے ساتھ برداشت کیا اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی حکم ہوتا تھا اور یہی بشارت ملتی تھی کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔تم مشرکوں سے اعراض کرو انہیں معاف کرتے رہو۔آخر نتیجہ وہی نکلے گا جو میں چاہتا ہوں لیکن میری راہ میں ہر قسم کی قربانی دینا اور اس قسم کے حالات میں امت مسلمہ کو جو قربانیاں انہیں دینی چاہئیں ان کی راہ نمائی کے لئے ایک کامل اور مکمل اُسوہ قائم کرنا تمہارا کام ہے، ہوگا وہی جو خدا نے چاہا اور صبر کرنے والوں نے پایا وہی جو خدا نے انعام مقرر کیا تھا لیکن صبر اور دعا کے نتیجہ میں۔پس جماعت اپنے اس دور میں خصوصاً مکی زندگی کے حالات اپنے سامنے رکھے اور اس قسم کے صبر اور صلوۃ کا نمونہ اسلام کے مخالفین کے سامنے رکھے۔جس قسم کے صبر اور دعا کا نمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مکی زندگی میں دکھایا تھا۔اگر ہم بحیثیت جماعت سارے مل کے آج اسی طرح کا نمونہ اسلام کی فتح اور اسلام کے غلبہ کے لئے دنیا میں قائم کریں جونمونہ کہ ہمیں اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتا ہے تو وہ وعدے بھی جو اس دور کی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کو دیئے ہیں ہمارے حق میں پورے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی توفیق دے کہ اس کی جو رضا ہے اس رضا کے مطابق صبر اور