خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 538
خطبات ناصر جلد دوم ۵۳۸ خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ کی مدد کے حصول کے لئے جو بہت سے طریق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائے ہیں ان میں سے دو باتیں وہ ہیں جو اس مختصر سی آیت میں بیان ہوئی ہیں جس کی ابھی میں نے تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری مدد اور نصرت حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ صبر سے کام لو اور دعاؤں میں ہمہ تن مشغول رہو اس کے بغیر تم میری مدد کو حاصل نہیں کر سکتے۔اس لئے احباب جماعت کو چاہیے کہ وہ صبر کے مقام پر پختگی سے قائم رہیں اور خدا کے بتائے ہوئے طریق پر، خدا کی رضا کے حصول کے لئے اس کی مدد اور نصرت کو حاصل کرنے کے لئے صبر و استقامت کا وہ نمونہ اپنے رب کے حضور پیش کریں جونمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً اپنی مکی زندگی میں دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تاریخی لحاظ سے دوحصوں میں منقسم ہوتی ہے۔ایک آپ کی مکی زندگی ہے ایک آپ کی مدنی زندگی ہے۔مکی زندگی میں ظاہری اعتبار سے حالات مدنی زندگی سے مختلف تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دو زندگیوں یا زندگی کے ہر دو ادوار میں مختلف حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی اور ایثار کا بہترین نمونہ اور اسوہ دنیا کے لئے پیش کیا۔عام طور پر جماعت کے سامنے مدنی زندگی کی زیادہ تفاصیل آتی رہتی ہیں اور مؤرخین نے بھی عام طور پر مدنی زندگی کے بارے میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ہمیں اس تفصیل سے آپ کی مکی زندگی کے حالات تواریخ نے بھی نہیں بتائے میں سمجھتا ہوں کہ ہر مسلمان پر اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں یہ دو دور آتے رہتے ہیں۔ایک وہ دور جو مکی زندگی سے مشابہ ہوتا ہے۔ایک وہ دور جو مدنی زندگی کے مشابہ ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی سے جو زمانہ زیادہ مشابہت رکھتا ہو اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اُسوہ اُمت محمدیہ کے سامنے ہونا چاہیے جو مکی زندگی کے زمانہ میں آپ نے قائم کیا جس طرح آپ نے ہر موقع پر دکھوں کو برداشت کیا اور صبر کا نمونہ دکھایا۔ہر روز ظلموں کا نیا سلسلہ شروع کیا جاتا اور ہر نئے سلسلہ کے مقابلہ میں ہمیں آپ