خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 38 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 38

خطبات ناصر جلد دوم ۳۸ خطبہ جمعہ ۹ رفروری ۱۹۶۸ء پہلے یہ مضمون چلا آرہا ہے کہ منافق مومنوں کو چھوڑ کے دنیا کی جھوٹی عرب توں کے لئے کافروں سے اور اسلام کے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ايَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ( النساء:۱۴۰) کیا اس طرح منافق دنیا میں اپنے لئے عزت کا سامان پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں معلوم نہیں کہ حقیقی عزت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہر قسم کی حقیقی عرب تیں اسی کی ہیں اور اسی سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔چونکہ ابتدائے اسلام میں غیر مسلموں کو سیاسی اقتدار اور طاقت حاصل تھی۔ابھی اسلام کا غلبہ نہیں ہوا تھا اس لئے منافق جھوٹی عز% توں کی خاطر ان کی طرف جھکتے اور ان کا سہارا لیتے اور ان سے عزّت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہاں منافقوں کو کہا کہ عزت اگر تم نے حاصل کرنی ہے تو یہ کا فر تمہیں عزت نہیں دے سکیں گے تمہیں معلوم ہونا چاہیے۔فَانَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (النساء :۱۴۰) حقیقی عزت تو اللہ تعالیٰ کی ہے اور اسی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔دوسری جگہ فرمایا۔وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (المنافقون: ۹) کہ عزت کے صحیح حقدار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ تعلق کو قائم رکھ کر عزت کو حاصل کیا جا سکتا ہے کافروں کی طرف مائل ہو کر ان کی طرف جھک کر ، ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے نتیجہ میں کسی قسم کی عزت حاصل نہیں کی جاسکتی۔انسانی فطرت کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے منافق غلط راہ اختیار کرتے تھے کہ خدا اور رسول کی طرف جھکنے کی بجائے وہ کافروں کی طرف جھک جاتے تھے۔اسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام کے ذکر میں سورہ ھود کی آیت ۹۳ میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ ان کے مخالف اور منکر کی نگاہ میں قبیلے کی طاقت اور عزبات زیادہ تھی اللہ تعالیٰ کی عزت کے مقابلہ میں۔حضرت شعیب کو بھی انہیں کہنا پڑا اَرَهْطِی اَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللهِ میرے قبیلے سے تم ڈرتے اور خوف کھاتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اگر میرے قبیلہ کو ناراض کیا تو تمہاری بے عزتی ہو جائے گی۔لیکن تم یہ نہیں سمجھتے کہ اصل بے عزتی تو اس شخص کی ہوتی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے۔اسی طرح سورہ کہف کی