خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 37
خطبات ناصر جلد دوم ۳۷ خطبہ جمعہ ۹ /فروری ۱۹۶۸ء خدا کی نگاہ میں عزت پانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اقوال پاک ہوں اور ہم اعمالِ صالح بجالائیں خطبه جمعه فرموده ۹ رفروری ۱۹۶۸ء بمقام نخله تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ ودیعت کیا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کی صفات کے رنگ میں رنگین ہو اور اس طرح اپنی پیدائش کے مقصد کو پورا کرے۔اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عزیز بھی ہے جس کے معنی غالب کے بھی ہیں اور جس کے معنی یہ بھی ہیں کہ تمام عرب تیں اسی کی ہیں۔قرآن کریم نے اس پر وضاحت سے روشنی ڈالی ہے کہ تمام عرب توں کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔وہ خود بھی تمام عرب توں کا مالک ہے اور حقیقی عربات سوائے اس کی ذات کے کسی اور سے مل ہی نہیں سکتی۔انسان کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ باعزت ہو اور باعزت رہے اور عزت نفس اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔لیکن انسانی فطرت میں یہ جذبہ پیج کے طور پر ہوتا ہے۔مگر انسان اپنی عزت کے حصول اور اس کے قیام کے لئے بہت سی غلط راہوں کو بھی اختیار کر لیتا ہے ایسی راہیں جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہوتی ہیں معزز نہیں ہوتیں۔قرآن کریم نے ان غلط راہوں کا بھی ذکر کیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ اس طرح ان راہوں پر چل کر تم حقیقی عززت کو حاصل نہیں کر سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ نساء کی ۱۴۰ ویں آیت میں فرماتا ہے۔