خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 479 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 479

خطبات ناصر جلد دوم ۴۷۹ خطبہ جمعہ ۱۷/جنوری ۱۹۶۹ء دوسرے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا تھا کہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو تو ہماری مدد اور نصرت اس رنگ میں تمہارے شامل حال ہو جائے گی کہ غیر تمہارے پر فتح نہیں پاسکے گا۔تمہارے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکے گا جیسا کہ آلِ عمران میں فرمایا۔وَلَا تَحْزَنُوا وَاَنْتُهُ الْأَعْلَونَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔(ال عمران :۱۴۰) اگر تم حقیقی مومن ہو اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو تو کامیابی تمہارے نصیب میں ہے۔اس واسطے تمہیں غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اول المؤمنین تھے۔آپ سے بڑھ کر کوئی مومن نہیں تھا تو یہاں یہ فرمایا کہ تم اول المؤمنین ہو تم نے ہی کامیاب ہونا ہے اس واسطے لا تحزن پریشان ہونے کی غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کو ملائکہ کی مدد اور ان کی بشارتیں ملتی ہیں۔پس یہاں یہ معنی ہوں گے کہ ملائکہ تمہاری مدد پر ہر وقت کمر بستہ ہیں لا تحزن اندرونی اور بیرونی دشمن کیسے کامیاب ہوسکتا ہے۔تم یہ غم نہ کرو یعنی دل میں یہ خیال نہ آئے کہ اسلام کہیں کمزور نہ ہو جائے ، نا کام نہ ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا ہے۔فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(البقرة : ٣٩) جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت قرآنی کی اتباع کرتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے نا کامی کا منہ نہیں دیکھتا وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ تو فرما یالا تَحْزَنُ جو ہم نے ہدایت نازل کی ہے تیری تو ساری زندگی ،سارے اخلاق ہی اس ہدایت کا عملی نمونہ ہیں یعنی تیری زندگی قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ہے اس واسطے تجھے غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو توغم کا سوال ہی نہیں دراصل ہمیں یہ سارے سبق دیئے جا رہے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا يَحْزُنُكَ قَولُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا - (يونس: ٦٦) اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ مجھے نا کام کریں اور ذلیل کر دیں لیکن تجھے اس یقین پر قائم کیا گیا ہے کہ عزت کا سر چشمہ اور منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس واسطے جو مرضی وہ کہتے رہیں، کرتے رہیں۔عزت تو تیرے ہی نصیب میں ہے۔دنیا کا سب سے معزز انسان (جب سے