خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 477
خطبات ناصر جلد دوم ۴۷۷ خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۶۹ء رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اطاعت کا ایسا ہی نمونہ دکھا ئیں گے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت حقیقتا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اپنی طرف سے کچھ کہا نہ اپنی طرف سے کچھ کر کے دکھایا جو کہا وہ خدا کا فرمان جو کیا وہ اس فرمان کے مطابق ایک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔اندرونی دشمن اور بیرونی دشمن یہ سمجھتا ہے کہ اگر اطاعت کی اس روح کو کمزور نہ کیا جائے تو وہ فتنہ نہیں پیدا کر سکتا۔اس واسطے ان کی ساری توجہ اور ان کا بھر پور وار اس روح پر ہوتا ہے جو سَبْعًا وَطَاعَةً کی روح ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اِنْ أُوتِيتُمْ هذَا فَخُذُوهُ که جو تمہاری مرضی کے مطابق ہو جس چیز میں تمہارا فائدہ ہو وہ حکم تو مان لیا کرو۔یعنی جو بات تمہیں معقول نظر آتی ہے مان لیا کرو لیکن جو بات تمہاری عقل میں نہیں آتی جسے تم غیر معقول سمجھتے ہو وہ تم کیوں مانو اور جسے ہوائے نفس منتر پاتا ہے مفید نہیں پاتا اپنے لئے اسے کیوں مانو۔اطاعت کی اس روح کو کمزور کرنے کے لئے یہ حیلہ کرتے تھے کہ وہ کہتے تھے کہ اگر اس قسم کے احکام ہوں چونکہ وسیع مفہوم ادا کرنا تھا اس واسطے احکام کی قسم کو معین نہیں کیا روح بتا دی ہے ) جو تمہارے فائدہ کے تمہیں نظر نہ آتے ہوں۔تمہاری خواہش کے مطابق نہ ہوں جو تم چاہتے ہو وہ نہ ہوں جو تمہارے نزدیک معقول نہ ہوں ایسی باتوں کو نہ مانا کرو بلکہ آزادی ضمیر کا واسطہ دے کر اور اللہ تعالیٰ نے جو عقل دی ہے اور بہت سی استعداد میں دی ہیں۔ان کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ آخر خدا تعالیٰ نے تمہیں بھی عقل دی اور روحانی قوتیں دیں جس چیز کو تم اچھا نہیں سمجھتے آنکھیں بند کر کے کیوں مانو علی وجہ البصیرت ماننا چاہیے پتہ نہیں کس کس رنگ میں وہ ان کو بہکاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے احکام ہوں تو مان لیا کرو۔اس قسم کے احکام ہوں تو نہ مانا کرو۔قتسم نہیں بتائی لیکن طریق بتادیا کہ جب چاہوما نو جب چاہو نہ مانو پس اطاعت تو ختم ہوگئی۔وہ روح جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا رنگ چڑھا دیتی ہے۔وہ روح جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم شکل بنا دیتی تھی۔وہ روح جو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی تھی کیونکہ خدا نے یہی فرمایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو اور آپ سے محبت کرو تب میرے محبوب بن سکو گے۔دشمن کہتا ہے اس روح کو