خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 35

خطبات ناصر جلد دوم ۳۵ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء ابھی کل ہی مجھے ایک شخص نے کہا کہ کوئی شخص کہ رہا تھا کہ فلاں شخص نے مجھ سے بات سنی اور کسی اور کی طرف منسوب کر کے وہ بات خلیفہ المسیح سے کہہ دی حالانکہ اس شخص نے ایک لفظ بھی اس کے متعلق نہ کہا تھا گھر بیٹھے بدنی کر لی کہ بات کر دی ہوگی جائے۔لیکن یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ ہر شخص جو منافقانہ بات کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ پکا منافق ہو۔منافقت کی ایک رگ ہے اس میں اس لئے کوشش کرنی چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کی منافقانہ رگ کو دور کر دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے منا فق طبع بھی تھے اور کمزور بھی تھے اپنے ایمانوں میں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اصلاح کا موقع دیا اور بعد میں وہ بڑے مخلص، قربانی دینے والے، ایثار کرنے والے بن گئے تو منافقانہ باتوں کو دیکھ کر صحیح نتیجہ جو ہمیں نکالنا چاہیے وہ یہ ہے۔(۱) ہم اس قسم کی منافقانہ باتوں کے نتیجہ میں جماعت میں کمزوری نہیں پیدا ہونے دیں گے اور (۲) یہ کہ ہم دعا کے ذریعہ اور تدبیر کے ذریعہ سے اس قسم کے کمزور لوگوں کی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۴ / مارچ ۱۹۶۸ ، صفحه ۲ تا ۴)