خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 453 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 453

خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۳ خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۶۹ء میں نیا سال آپ کے لئے بھی اور میرے لئے بھی اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔جس سال میں سے ہم گزر چکے ہیں اس کا اختتام ہمیں بڑا بابرکت نظر آیا یہ بھی مصلحت ہی تھی کہ سال کے آخر میں ہمارا جلسہ سالانہ رکھا گیا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت سی برکات کا نزول ہوا اور اس جماعت مخلصین نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت ایثار اور فدائیت اور محبت اور اُلفت اور اخوت کے مظاہرے کئے۔ربوہ کے رہنے والوں پر جو ایک غریبانہ زندگی بسر کرتے ہیں مالی لحاظ سے جلسہ بڑا بوجھ ڈالتا ہے کیونکہ ان کے رشتہ دار عزیز دوست اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ان کے گھروں میں آ کر ٹھہرتے ہیں اور علاوہ اس سادے کھانے کے جو جماعتی نظام کے ماتحت اُنہیں دیا جاتا ہے اور بہت سے خرچ ہیں جو انہیں کرنے پڑتے ہیں جنہیں وہ بشاشت کے ساتھ کرتے ہیں اور بہت سی تکالیف ہیں جو انہیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور وہ بشاشت اور مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے پاک بندوں کے متعلق جو یہ فرمایا يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ - (الحشر :١٠ ) یہ نظارہ بڑی وضاحت کے ساتھ اور پوری طرح روشن ہو کر جلسہ کے ایام میں ہمارے سامنے آ جاتا ہے کہ اپنی جانوں کی ، اپنی تکلیف کی، اپنے مال کی پروا نہیں کرتے بلکہ اپنے بھائیوں کے آرام میں اور اس جدو جہد میں کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے اپنے اوقات کو بھی خرچ کرتے ہیں اور اپنے آراموں کو بھی قربان کرتے ہیں اور اپنے مال بھی خرچ کر رہے ہوتے ہیں جلسہ سالانہ ہر سال یہ نظارہ پیش کرتا ہے لیکن چونکہ ہر سال پہلے کی نسبت زیادہ مہمان آتے ہیں اس لئے ہر سال صرف یہ بات ہمارے سامنے نہیں آتی کہ ایک ایثار پیشہ جماعت دنیا میں قائم ہو چکی ہے بلکہ یہ نظارہ خاص طور پر ہمارے سامنے آتا ہے کہ یہ ایثار پیشہ جماعت ہر سال پہلے کی نسبت زیادہ ایثار دکھاتی اور قربانیاں دیتی ہے اور ان تمام مطالبات کو پورا کر رہی ہے جو جلسہ کے یہ چند ایام ان سے کرتے ہیں۔ہر سال پہلے سے زیادہ قربانی اور پہلے سے زیادہ بشاشت اور لذت کے ساتھ وہ قربانی دے رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ربوہ کے مکینوں کو اس کی بہترین جزا