خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 454 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 454

خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۴ خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۶۹ء دے۔اس قسم کی قربانی دینا بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتا اور قربانی دینے کی توفیق وہی پاتے ہیں جو ہدایت کے پہلے دو تقاضوں کو پورا کر چکے ہوں یعنی اپنی عقل اور فطرت کے تقاضے پورے کرنے والے ہوں اور عقل کا جو یہ تقاضا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو ہدایت آئے اسے قبول کرو دنیا کا کوئی عقلمند یہ تو نہیں کہے گا کہ اگر اللہ کی طرف سے کوئی ہدایت آئے تو اسے قبول نہ کرو وہ یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں لیکن یہ کہ وہ کہے کہ ہدایت تو اللہ کی طرف سے ہے لیکن عقل کہتی ہے کہ اسے قبول نہ کرو کوئی بھی یہ نہ کہے گا اور فطرت انسانی کے اندر یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ حقیقی سکون اور مسرت اور خوشحالی کی زندگی وہی پاتے ہیں جو اپنے رب سے ایک حقیقی اور زندہ تعلق قائم کر لیتے ہیں۔فطرت انسانی کو اس کے بغیر تسلی نہیں ہوتی۔تو جو شخص عقل سے کام لیتا اور فطرت کے اندر جو ایک تقاضا اور ایک Urge ہے اسے پورا کرتا ہے اور یہ عزم کئے ہوتا ہے کہ میں نے اپنے رب سے تعلق کو قائم کرنا اور پختہ کرنا ہے تو پھر جب اس کے کان میں اللہ کی آواز اس کے کسی مامور کے ذریعہ سے پڑتی ہے تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اطاعتِ رسول کرتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ہمارے کان میں تو وہ آواز پڑی کہ جو سب پہلی آوازوں سے زیادہ شیریں تھی اور حسین تھی اور اس کے ساتھ احسان کے اس قدر جلوے تھے کہ پہلی قوموں نے اپنی امتوں کے انبیاء کے وجود میں احسانوں کے وہ جلوے نہیں دیکھے۔ہمارے کان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پہنچی۔ہم نے اس آواز دینے والے کے وجود میں خدا تعالیٰ کی الوہیت کے کامل مظہر کو دیکھا۔اسی حسن اور اسی احسان کے ساتھ اور دیوانہ وار لبیک کہتے ہوئے ہم اس پاک وجود کی طرف دوڑے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت ہمارے لئے نازل ہوئی ہم نے اسے پہچانا اسے قبول کیا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کا عہد اپنے رب سے باندھا اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ کہا کہ درجہ بدرجہ تمہیں روحانیت میں بلند تر کرتا چلا جاؤں گا تم ایک مقام تک جب پہنچو گے قرب کی اور رضا کی نئی راہیں تم پر کھولوں گا اور ان پر چلنے کی تمہیں تو فیق عطا کروں گا اور تمہارا اس نئے مقام کے مناسب حال جو تقویٰ ہے تمہیں دوں گا اور تم میری نگاہ میں