خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 447 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 447

خطبات ناصر جلد دوم ۴۴۷ خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء ان سے تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے کے لئے کہا ہے میں نے لوگوں کے اموال میں تمہارا حق رکھ دیا ہے تاکہ تمہیں یہ احساس نہ ہو کہ کوئی ہم پر احسان کر رہا ہے، میں نے ان سے تو کہا کہ وہ تم پر احسان کریں یعنی جو تمہاراحق ہے اس سے بھی زائد دیں اور تمہارے لئے اس خدمت کو حق کہہ دیا تا کہ تمہاری عزت نفس محفوظ رہے کہ جب کوئی مہمان کسی کے پاس جاتا ہے اور وہ اس کی خدمت کرتا ہے تو یہ خدمت اس مہمان کا حق ہے جو وہ وصول کر رہا ہے وہ اس سے خیرات نہیں مانگ رہا یعنی مال خرچ کرنے والے کے مال کا جو حصہ مہمان پر خرچ ہو رہا ہے وہ خرچ کرنے والے کا حق نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے وہ مہمان کا حق ہے اور مہمان کا حق اس کو دے دو اور اتنے سامان کرنے کے بعد بھی فرمایا کہ دیکھو پھر بھی تمہیں اپنے گھر جیسا آرام نہیں ملے گا اس لئے تم سفر میں رمضان کے روزے نہ رکھنا بڑا ہی پیار کا سلوک ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم سے کیا ہے پیار کے اس سلوک پرشکر واجب ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میرے جو مہمان مرکز میں آئیں اور تمہیں ان کی خدمت کی توفیق ملے تم ان کی خدمت کا اس طرح خیال رکھنا جس طرح میں نے تمہارا خیال رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا:۔میں ایک اعلان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس طرح رمضان کے آخری جمعہ (جس کو جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے) کے ساتھ بہت سی بدعات لگ گئی ہیں اسی طرح یہ ہوسکتا ہے کہ درس القرآن کی جو آخری دعا ہے وہ بھی ایک بدعت نہ بن جائے لہذا اس سال اس رنگ کی دعا نہیں ہوگی بلکہ جب درس ختم ہوگا تو اس وقت دو منٹ کی دعا کر دیں دعا کے بغیر تو ہماری زندگی ہی نہیں اس لئے میرا یہ مطلب نہیں کہ ہم دعا کے بغیر بھی ایک سانس لے سکتے ہیں ہماری تو زندگی ہی دعا پر منحصر ہے لیکن دعا پر زندگی کا یہ انحصار تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان چیزوں کو بدعت کا رنگ نہ دے دیں اور اس سے بچتے رہیں اس سال یہ بات نہیں ہو گی لیکن ایک اور رنگ میں میں دعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں اسلام نے اجتماعی دعا کا بھی حکم دیا ہے اور انفرادی دعا کا بھی حکم دیا ہے اس لئے آج عصر اور مغرب کے درمیان یعنی روزہ کھولنے تک دوست جس حد تک ممکن ہو سکے انفرادی دعاؤں میں