خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 442

خطبات ناصر جلد دوم ۴۴۲ خطبہ جمعہ ۲۰/دسمبر ۱۹۶۸ء مخاطب ہو رہا ہوں اور افسروں کو بھی جو کام لینے والے ہیں اور منتظمین ہیں کہتا ہوں کہ تمہارا یہ فرض ہے کہ انہیں صحیح تربیت دو کیونکہ اس قسم کی تربیت کے بغیر وہ ان ذمہ داریوں کو نباہ نہیں سکیں گے جو ایک وقت میں ان کے کندھوں پر پڑنے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان سے سلوک ہی یہ رکھا ہے کہ اسے ایک چھوٹی سی عمر دی ہے۔انسان عام طور پر پچاس سال ساٹھ سال یا ستر سال زندہ رہتا ہے اور جنہیں زیادہ عمر دی جاتی ہے وہ سو سال تک پہنچ جاتے ہیں اس کے بعد دوسری نسل آتی ہے اس نے پہلوں کی جگہ لینی ہوتی ہے یہ نسل پہلوں سے زیادہ مضبوط ہونی چاہیے کیونکہ ترقی کرنے والی قوموں کی ذمہ داریاں دن بدن بڑھتی رہتی ہیں پھر دوسری نسل کے کندھوں پر جس قدر بوجھ پڑے گا تیسری نسل کے کندھوں پر اس سے زیادہ بوجھ پڑے گا کیونکہ اس وقت کام زیادہ ہو گئے ہوں گے مثلاً احمدیت کی مثال ہی لے لو اب اگر چالیس پچاس ملکوں میں احمدیت پھیلی ہوئی ہے اور ان کے کام ہمیں کرنے پڑتے ہیں لیکن جب اگلی نسل آئے گی تو اس وقت ساٹھ ستر ملکوں میں احمدیت پھیل چکی ہوگی پہلے اگر تیس چالیس لاکھ آدمی تھے تو دوسری نسل کے وقت ستر اسی لاکھ یا ایک کروڑ آدمی ہوں گے اس سے اگلی نسل کے وقت دس کروڑ سے زائد احمدی ہوں گے اور ان کا کام زیادہ تر مرکز میں رہنے والوں کو ہی کرنا ہو گا ان پر ہی زیادہ بوجھ پڑے گا اگر ان بچوں کو جن کے کندھوں پر انتظامی لحاظ سے پہلی نسل سے زیادہ بوجھ ہوگا ہم تربیت نہیں کریں گے تو وہ یہ بوجھ کیسے اُٹھا ئیں گے؟ سات آٹھ دن لگا تار کام کرنا ایسی بات نہیں جو ہو نہ سکے بڑی عمر کے لوگ ( گو دوسرے بوجھ تربیت کے نتیجہ میں اٹھا سکتے ہیں) یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ عمر کے لحاظ سے ان بوجھوں کی قسم بدل جاتی ہے مثلاً ایک نوجوان ہے وہ وزن زیادہ اٹھالے گا لیکن جو ستر سال کا بوڑھا ہے اور اس کی کمر خم ہے وہ وزن زیادہ نہیں اُٹھا سکے گا ہاں اگر کوئی اور کام اس کے مناسب حال ہو تو وہ کر لے گا مثلاً شاید وہ وقت زیادہ خرچ کردے اپنی نیند کا وقت کم کر دے۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا ۱۹۴۷ء کی بات ہے اس وقت جسم میں زیادہ طاقت تھی میں بلا مبالغہ کہ سکتا ہوں کہ میں اس سال ایک دو ماہ متواتر نہیں سو یا سارے علاقہ میں آگ لگی ہوئی تھی